پشاور، خیبر پختونخوا حکومت نے 3 ایم پی او، 16 ایم پی او اور دفعہ 144 میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان قوانین کو سیاسی دباؤ یا انتقامی کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ہفتہ کو وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں اعلیٰ سطح اجلاس منعقد ہوا جس میں ان قوانین کے حوالے سے تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم کی سربراہی میں چار رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو مجوزہ اصلاحات سے متعلق سفارشات پیش کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ آزادی اظہار رائے اور پُرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے تاہم احتجاج کے دوران عوامی سہولت اور روزمرہ زندگی کے تسلسل کو متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
محمود خان اچکزئی اورعلامہ ناصرعباس نے ملک گیرتحریک کا اعلان کردیا
اس مقصد کے لیے حکومت ایسا نیا لائحہ عمل تیار کرے گی جس میں احتجاج کے حق اور عوامی مفاد کے درمیان توازن برقرار رکھا جا سکے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہر قانون کے مثبت اور منفی پہلو ہوتے ہیں، بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وژن کے مطابق ان قوانین کو عوامی مفاد میں مزید بہتر بنایا جائے گا انہوں نے ہدایت دی کہ ایسے نکات نکال دیے جائیں جو سیاسی انتقام کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کا تحفظ اور سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے، ہر اقدام کا مقصد عوامی فلاح ہونا چاہیے۔
اجلاس میں صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم، چیف سیکریٹری شہاب علی شاہ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ محمد عابد مجید اور ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمانخیل نے شرکت کی۔
