اسلام آباد ، حکومت کے ارکان سینیٹ انوشہ رحمان اور خلیل طاہر سندھو نے سینٹ میں ایک آئینی ترمیم پیش کی ہے جس کے تحت آئین کے آرٹیکل 248 میں صدر کے ساتھ وزیر اعظم کو بھی شامل کیا جائے گا۔
مجوزہ ترمیم کے منظور ہونے کے بعد وزیر اعظم کے خلاف دورانِ مدت فوجداری مقدمات میں کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔
ذرائع کے مطابق یہ ترمیم موجودہ آئینی فریم ورک میں صدر کو حاصل استثنیٰ کے دائرے کو وزیر اعظم تک وسعت دینے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
وزیرآباد، این اے-66 ضمنی انتخاب، بلال فاروق تارڑ بلا مقابلہ رکن قومی اسمبلی منتخب
آئینی ماہرین کے مطابق، آرٹیکل 248 میں تبدیلی کے بعد وزیر اعظم بھی اپنے عہدے کی مدت کے دوران قانونی چارہ جوئی سے محفوظ رہیں گے۔
سینیٹر انوشہ رحمان نے کہا کہ یہ اقدام وزیراعظم کی آئینی اور قانونی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے انجام دینے کے لیے ضروری ہے جبکہ سینیٹر خلیل طاہر سندھو نے بتایا کہ مجوزہ ترمیم حکومت کی کارکردگی اور فیصلہ سازی میں رکاوٹ پیدا ہونے سے بچانے کے لیے پیش کی گئی ہے۔
واضح رہے کہ آئینی ترمیم کا مقصد وزیراعظم کو دورانِ مدت قانونی پیچیدگیوں سے بچانا اورحکومتی امور کی مسلسل کارکردگی کو یقینی بنانا ہے۔
اس ترمیم پر سینیٹ میں مزید بحث متوقع ہے اور متعلقہ کمیٹی سے منظوری کے بعد حتمی ووٹنگ عمل میں آئے گی۔
