وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا مقصد عدالتی اصلاحات اور انصاف تک رسائی میں آسانی فراہم کرنا ہے۔
سینیٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ترمیم کے تحت وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی تجویز پارلیمان میں پیش کی گئی ہے، جو آئینی تنازعات اور مقدمات کے فیصلے کرے گی۔
وزیر قانون کے مطابق سپریم کورٹ میں آئینی مقدمات صرف 6 فیصد ہیں، لیکن یہ عدالتی وقت کا 40 فیصد حصہ لے جاتے ہیں۔ وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے سپریم کورٹ کے بوجھ میں کمی آئے گی اور مقدمات کی سماعت تیز ہوگی۔
مسودے کے تحت جوڈیشل کمیشن آف پاکستان ججز کی ٹرانسفر کا اختیار سنبھالے گا اور وزیراعظم کا عمل دخل ختم کر دیا جائے گا۔ ہائی کورٹ کے ججز کو 2 سال کے لیے دوسرے صوبے میں بھیجا جا سکے گا، جبکہ جج کی رضا مندی کے بغیر 2 سال سے زائد تبادلہ نہیں ہو سکے گا۔
ترمیم کے مطابق وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس اور ججز کے سینیارٹی اصول واضح کیے جائیں گے، اور اسلام آباد ہائی کورٹ سمیت دیگر صوبائی ہائی کورٹس میں سینیارٹی تنازعات ختم ہوں گے۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ترمیم کے بعد عدلیہ کی خودمختاری بڑھے گی، شفافیت میں اضافہ ہوگا اور وفاقی تنازعات کے فیصلے جلد ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم عدلیہ کے ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی لانے اور عدالتی نظام میں تاریخی اصلاح متوقع ہے۔
وزیر قانون نے بتایا کہ تمام اتحادی سیاسی جماعتوں اور اپوزیشن کو ترمیم پر رائے دینے کی دعوت دی گئی تھی تاکہ فیصلہ مشاورت کے بعد کیا جا سکے۔
