اسلام آباد، وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کا ابتدائی خاکہ تیار کرلیا ہے، جس میں عدالتی ڈھانچے اور وفاقی اختیارات سے متعلق اہم تجاویز شامل کی گئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق کابینہ سے منظوری کے بعد مجوزہ مسودہ سینیٹ میں پیش کیا جائے گا، مجوزہ ترمیم کے تحت آئینی بینچ کی جگہ 9 رکنی مستقل عدالت قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ آئینی معاملات پر فیصلے زیادہ منظم اور شفاف طریقے سے ہو سکیں۔
ترمیم میں چیف الیکشن کمشنر کے تقرر کے حوالے سے بھی نیا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے، تجویز کے مطابق اگر وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان ڈیڈلاک پیدا ہو تو معاملہ سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوایا جائے گا۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس کل طلب، 27 ویں آئینی ترمیم منظور کیے جانے کا امکان
ذرائع کے مطابق مجوزہ ترمیم میں فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئینی کور دینے اور اس ٹائٹل کو تاحیات برقرار رکھنے کی تجویز بھی شامل ہے، فیلڈ مارشل کو محدود آئینی اختیارات دینے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ترمیمی خاکے میں تعلیم اور صحت کے شعبوں کو دوبارہ وفاق کے دائرہ اختیار میں لانے پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان ترامیم کا مقصد ادارہ جاتی ہم آہنگی اور ریاستی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔
