وزیراعظم سے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی قیادت میں سات رکنی وفد نے ملاقات کی۔
وفد میں گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری، وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال، ارکانِ قومی اسمبلی ڈاکٹر فاروق ستار، جاوید حنیف خان، سید امین الحق اور خواجہ اظہار الحسن شامل تھے۔ وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر تفصیلی گفتگو اور مشاورت کی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور مشیرِ وزیراعظم رانا ثناء اللہ بھی شریک تھے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کے وفد نے ملاقات کے دوران وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار بنانے سے متعلق شقیں شامل کی جائیں تاکہ شہری علاقوں کے مسائل مقامی سطح پر مؤثر انداز میں حل کیے جا سکیں۔
بعد ازاں 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے پاکستان پیپلز پارٹی کا وفد وزیرِاعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کے بعد کراچی روانہ ہوگیا۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں مجوزہ ترمیم کی شقوں اور پیپلز پارٹی کے مؤقف پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ وزیرِاعظم سے ملاقات کے دوران حکومتی وفد میں نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار، وزیرِقانون اعظم نذیر تارڑ، وزیرِمنصوبہ بندی احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان بھی شریک تھے۔
پیپلز پارٹی کا وفد ملاقات کے بعد نور ایئر بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی روانہ ہوا، جہاں آج شام 7 بجے پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کونسل (CEC) کا اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف سے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر اور وفاقی وزیر مواصلات عبد العلیم خان اور وزیر مملکت برائے سمندر پار مقیم پاکستانی، عون چوہدری نے ملاقات کی۔
اجلاس میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو اور مشاورت ہوئی۔
