اسلام آباد: سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ مولا جٹ کی سیاست کرنی ہے تو پھر گورنر راج کا آپشن بھی ہے۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات ہوتی رہتی ہے۔ اور بڑے مضبوط سیاست دان ہیں۔ ان کے ساتھ عزت اور احترام کا رشتہ ہے۔ وہ 27ویں ترمیم کے معاملے کو دیکھیں گے اور سمجھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا۔ میں 27ویں کے بعد 28ویں ترمیم کے لیے بھی بے تاب ہوں۔ اور مولانا فضل الرحمان نے کہا تجاویز کا جائزہ لوں گا۔ نمبر زیادہ ہی ہیں لیکن نمبرز کا مسئلہ نہیں۔ مولانا فضل الرحمان کا ہونا لازمی ہے۔ کیونکہ ان کا ملکی سیاست میں اہم کردار ہے۔
فیصل واوڈا نے کہا کہ آئینی ترمیم وقت کی ضرورت ہے۔ فساد اور انتشار کی سیاست کا ملک متحمل نہیں ہو سکتا۔ جبکہ سہیل آفریدی کا خیر مقدم کرتے ہیں، ایک ورکر آگے آ کر وزیراعلیٰ بنا۔ یہ اچھی بات ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو 27ویں آئینی ترمیم کے لیے اعتماد میں لینا چاہیے۔ اور پی ٹی آئی اگر اچھی سیاست کرتی ہے تو ضرور اعتماد میں لینا چاہیے۔ 18ویں ترمیم کا رول بیک نہیں کیا جا رہا۔
سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ایک دوسرے سے مشاورت سے ترمیم پر نظر ثانی ہو جاتی ہے۔ اور 27ویں ترمیم پر اتنے سوال ہو رہے ہیں۔ اگر 28ویں ترمیم پر کرتے تو اچھا ہوتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ مولا جٹ کی سیاست کرنی ہے تو پھر گورنر راج کا آپشن بھی ہے۔ اور دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے جو ترامیم چاہیے وہ ہو جائیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: سندھ حکومت کی ٹائر جلانے اور پائرو لائسز پلانٹس پر پابندی
فیصل واوڈا نے کہا کہ ٹرانسفر پوسٹنگ میری منشا اور مرضی سے نہیں چلتی۔ تاہم اگر سیاستدان 80 سال کا ہو سکتا تو جج 78 کا کیوں نہیں؟ کالعدم ٹی ایل پی سے میرے 2018 سے تعلقات ہیں۔ اور اسے واضع وجہ سے کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ جو بھی ریڈ لائن کراس کرے گا اسے سختی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ اب جنگ صرف زمینی، فضائی یا بحری نہیں۔ بلکہ اب مائنڈ سیٹ اور ٹیکنیکل جنگ شروع ہو گئی ہے۔
