سندھ ہائی کورٹ میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جاری ای چالان نظام کو چیلنج کر دیا گیا ہے۔
امیرِ جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر اور دیگر شہریوں نے درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ بغیر بنیادی انفراسٹرکچر اور واضح قانونی طریقہ کار کے، شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کیے جا رہے ہیں جو غیر منصفانہ اور غیر قانونی ہیں۔
درخواست گزاروں کے وکیل عثمان فاروق ایڈووکیٹ نے مؤقف پیش کیا کہ سی سی ٹی وی کیمروں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے خودکار نظام کے ذریعے گاڑیوں کے مالکان کو چالان بھیجے جا رہے ہیں، خواہ خلاف ورزی گاڑی کے اصل ڈرائیور نے کی ہو یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ “ای چالان خودکار طور پر گاڑی کے مالک کو بھیج دیا جاتا ہے، بغیر اس بات کے کہ خلاف ورزی کس نے کی۔”
وکیل نے کہا کہ کراچی سمیت سندھ بھر میں سڑکوں کی حالت انتہائی خراب ہے، کئی مقامات پر اسپیڈ لمٹ کے سائن بورڈ اور زیبرا کراسنگ موجود ہی نہیں، جب کہ ترقیاتی منصوبوں کے باعث بعض علاقوں میں خود ٹریفک پولیس رانگ وے پر ٹریفک چلاتی ہے۔
انہوں نے عدالت کو بتایا کہ کریم آباد انڈر پاس کئی برسوں سے زیرِ تعمیر ہے، جہانگیر روڈ، نیو کراچی روڈ اور دیگر اہم شاہراہیں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ ایسی صورتحال میں شہریوں پر بھاری جرمانے عائد کرنا امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔
درخواست گزار کے مطابق ای چالان کا اصل مقصد ریوینیو جمع کرنا ہے، شہریوں کی اصلاح نہیں۔ وکیل نے کہا کہ “وفاق کو 50 فیصد اور سندھ کو 95 فیصد ریوینیو دینے والے شہر کراچی کے شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنا غیر منصفانہ ہے۔”
وکیل نے مزید کہا کہ محکمہ ایکسائز میں کرپشن اور تاخیر کے باعث گاڑیوں کی ملکیت کی بروقت منتقلی ممکن نہیں، جبکہ ہزاروں گاڑیاں اوپن لیٹرز پر چل رہی ہیں۔ اس لیے چالان غلط مالکان کے نام پر جا رہے ہیں۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ معمولی خلاف ورزیوں پر ہزاروں روپے کے جرمانے لگانا عوام دشمن اقدام ہے۔
“کراچی میں موٹر سائیکل کے رانگ سائیڈ یا تیز رفتاری پر جرمانہ 5 ہزار ہے، جبکہ لاہور میں یہی جرمانہ 200 روپے ہے، یہ واضح امتیاز ہے۔”
درخواست میں استدعا کی گئی کہ عدالت ای چالان اور بھاری جرمانوں کو فوری طور پر معطل کرے، مصنوعی ذہانت پر مبنی اس نظام کو انفراسٹرکچر کی عدم موجودگی میں غیر قانونی قرار دے، اور شہریوں کے ساتھ امتیازی سلوک ختم کرنے کا حکم دے۔
