نیویارک کے میئر کے انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی نے شاندار کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنی تاریخی فتح کا اعلان کر دیا۔
انتخابی نتائج آنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے ممدانی نے کہا،”دوستو! مستقبل اب ہمارے ہاتھ میں ہے۔ ہم نے ایک سیاسی بادشاہت کا خاتمہ کر دیا ہے۔”
انہوں نے اپنے حریف اینڈریو کومو کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، کہ “ان کی نجی زندگی کے لیے میری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں، لیکن آج کے بعد ان کا نام لینے کی ضرورت نہیں، کیونکہ ہم ایک نئے دور کی سیاست شروع کر رہے ہیں، ایسی سیاست جو چند لوگوں کے نہیں بلکہ سب کے لیے ہے۔”
ممدانی نے اپنی فتح کو “تبدیلی کا مینڈیٹ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج نیویارک کے عوام نے ایک نئی سیاست، ایک نئی امید اور ایک ایسا شہر منتخب کیا ہے جو سب کے لیے قابلِ برداشت ہو۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ یکم جنوری کو نیویارک کے میئر کی حیثیت سے حلف اٹھائیں گے۔
اپنے خطاب میں زہران ممدانی نے تمام اقلیتوں کے تحفظ اور اسلاموفوبیا کے خاتمے کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ “ہم نیویارک کی تمام اقلیتوں کی حفاظت یقینی بنائیں گے۔ اس شہر سے اسلاموفوبیا کا خاتمہ کریں گے تاکہ اس بنیاد پر کوئی الیکشن نہ جیت سکے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی مہم کے خلاف اربوں ڈالر کا پروپیگنڈا کیا گیا، مگر عوام نے سچائی اور انصاف کے حق میں ووٹ دیا۔
زہران ممدانی نے مختلف برادریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جیت ان سب کی ہے جو اس شہر کی خدمت کرتے ہیں مگر سیاست نے ہمیشہ انہیں نظر انداز کیا۔ “سینیگالی ٹیکسی ڈرائیوروں سے لے کر ازبک نرسوں اور ٹرینیڈیڈین کُکس تک۔ یہ شہر تمہارا ہے، اور یہ جمہوریت بھی تمہاری ہے۔”
انہوں نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی ٹرمپ کو شکست دے سکتا ہے تو وہی شہر ہے جس نے ٹرمپ کو جنم دیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ، غور سے سنیں، ہم متحد ہیں۔”
اس کے بعد ممدانی نے اسلام مخالف قوتوں اور ان کے خلاف مہمات چلانے والے رہمنماؤں، خصوصاً الون مسک اور ٹرمپ کے سینے پر مونگ دلنے کے لیے کہا کہ “میں مسلمان ہوں، اور مجھے اپنی اس شناخت پر فخر ہے۔”
