کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر ہونے والے ای چلان پر 5 نومبر تک جواب طلب کر لیا۔
سندھ ہائیکورٹ میں ٹریفک خلاف ورزیوں پر ہونے والے ای چالان کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے درخواست پر تمام متعلقہ فریقین کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے 25 نومبر تک جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کراچی میں ٹریفک جرمانے حد سے زیادہ اور غیر منصفانہ ہیں۔ ایک ہی قسم کی خلاف ورزی پر لاہور میں 200 روپے جرمانہ اور کراچی میں یہی جرمانہ 5 ہزار روپے تک وصول کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت نے جولائی 2025 سے صوبے میں کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے مقرر کی۔ جو کہ ضروری اخراجات جیسے کہ کھانے پینے، یوٹیلیٹی بلز اور بچوں کی تعلیم پورے کرنے کے لیے ناکافی ہے۔ اور اب اتنے بھاری ٹریفک جرمانے عام شہریوں پر مزید بوجھ ڈال رہے ہیں۔
وکیل نے کہا کہ صوبے کے دیگر بڑے شہروں میں اب تک ٹریفک قوانین میں اصلاحات نافذ نہیں کی گئیں۔ اس لیے کراچی میں اس نظام کا اطلاق امتیازی محسوس ہوتا ہے۔
عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ حکام کو ہدایت دی جائے کہ وہ ان جرمانوں کی منصفانہ بنیادوں پر وضاحت پیش کریں۔ اور اس وقت تک ٹریفک چالان کی وصولی معطل رکھی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت کا منشیات ملزمان کیخلاف مزید سخت قوانین بنانے کا فیصلہ
درخواست میں صوبائی چیف سیکریٹری، آئی جی سندھ پولیس، ڈی آئی جی ٹریفک، ڈائریکٹر جنرل ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور نادرا کے ڈائریکٹر جنرل کو فریق بنایا گیا ہے۔
