وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے معاشی استحکام کا اعتراف کر لیا۔
وزیر خزانہ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت معیشت میں بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مائیکرو اکنامک استحکام پر کامیابی حاصل کی ہے۔
وزیراعظم نے پیپلز پارٹی سے 27 ویں ترمیم کی حمایت کی درخواست کر دی ، بلاول بھٹو
ہماری سمت معاشی صورتحال میں درست ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف لیول معاہدہ بھی معاشی استحکام کی توثیق ہے۔ پالیسی ریٹ میں کمی کے معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کے معاشی استحکام کا اعتراف کیا ہے، ہمارا ہدف پائیدار معاشی استحکام یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت معیشت میں بنیادی اصلاحات کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔
انفرادی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا، چیئرمین ایف بی آر
چیئرمین ایف بی آر راشد محمود لنگڑیال نے کہا کہ ایک سال میں ٹیکس ٹوجی ڈی پی میں 1.49 فیصد اضافہ ہوا، ان کا کہنا تھا کہ صوبائی ریونیو اور پی ڈی ایل سے ٹیکس کی شرح کو 18 فیصد تک لے جانا ہے۔
وفاق سے 15 اور صوبوں سے 3 فیصد ریونیو جمع کرنا ہدف ہے، صوبوں پر اتنا دباؤ نہیں جتنا وفاق پر ریونیو کیلئے ہے، چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ رواں سال انفرادی ٹیکس ریٹرنگ فائل میں 18 فیصد اضافہ ہوا۔

چیئرمین ایف بی آرنے کہا کہ ٹیکس ریٹرن فائلرز کی تعداد 49 سے بڑھ کر 59 لاکھ ہو گئی ہے ،مؤثر اقدامات کے باعث ٹیکس وصولیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
راشد محمود نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں وقت درکار ہوتا ہے، ٹیکس سے متعلق بجٹ میں منظور ہونیوالے اقدامات پر عمل پیرا ہیں، انفرادی ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ٹیکس اصلاحات پر ہفتہ وار بنیادوں پر جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہیں، ایف بھی آر کو تمام اداروں کا تعاون حاصل ہے، ایف بی آر کو مزید ٹیکس عائد کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
بجلی کی قیمت میں ساڑھے دس فیصد کمی ہوئی، وزیر توانائی اویس لغاری
وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ توانائی کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ گزشتہ 18 ماہ میں بجلی کی قیمت میں ساڑھے 10 فیصد تک کمی آئی ہے۔
اویس لغاری نے کہا کہ جہاں جہاں موقع ملا عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز سے متعلق ٹاسک فورس نے نمایاں کام کیا۔
وفاقی وزیر توانائی نے خوشخبری سناتے ہوئے کہا کہ اب حکومت بجلی نہیں خریدے گی، ہم نے گردشی قرضوں کے خاتمے کے حوالے سے مؤثر پلان بنایا، ایک سال میں گردشی قرضوں میں 700 ارب روپے کی کمی آئی۔
انہوں نے کہا کہ آٹو میٹنگ میٹرنگ میں صارفین کو پری پیڈ کی سہولت بھی میسر ہوگی، ہم نے توانائی کے شعبے کے تکنیکی مسائل کو حل کرکے بڑی بچت کی۔
