امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین این ویڈیا (Nvidia) اے آئی چِپس اب صرف امریکی کمپنیوں کے لیے دستیاب ہوں گی، جبکہ چین اور دیگر ممالک کو ان جدید ترین ٹیکنالوجیز تک رسائی نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ “ہم اپنی سب سے جدید چِپس کسی اور ملک کو نہیں دیں گے۔ صرف امریکا کے پاس ہی بلیک ویل (Blackwell) چِپس ہوں گے۔”
ماہرین کے مطابق یہ بیان واشنگٹن کی چِپ برآمدی پالیسی میں ممکنہ سختی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد چین سمیت کئی ممالک کے لیے جدید سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی مزید مشکل ہو جائے گی۔
این ویڈیا، جو حال ہی میں دنیا کی امیر ترین ٹیک کمپنی بن چکی ہے، مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے بلیک ویل چِپس کلاؤڈ کمپیوٹنگ، روبوٹکس اور دفاعی صنعتوں میں بڑی مانگ رکھتے ہیں۔
جنوبی کوریا کو فراہمی
چند روز قبل این ویڈیا نے اعلان کیا تھا کہ وہ 260,000 سے زائد بلیک ویل چِپس جنوبی کوریا کو فراہم کرے گی، جن میں سام سنگ الیکٹرانکس سمیت بڑی کمپنیوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تاہم چین کو یہ چِپس فراہم نہیں کی جائیں گی۔
.@nvidia CEO Jensen Huang: “When President Trump first took office, he wanted us to manufacture these critical technologies onshore… within 9 months… we’ve been able to manufacture now the most advanced AI chip in the world, completely in the United States — in Arizona.” pic.twitter.com/r7OncpMbkw
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) November 2, 2025
صدر ٹرمپ نے کہا کہ ممکن ہے امریکا این ویڈیا کو محدود کاروبار کی اجازت دے، مگر اس میں جدید ترین ٹیکنالوجی شامل نہیں ہوگی۔
سیاسی اور اقتصادی اثرات
چین سے متعلق پالیسی پر امریکی کانگریس میں بھی اختلافات پائے جاتے ہیں۔ بعض قانون سازوں نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی سطح پر چِپ فروخت چین کی فوجی صلاحیتوں کو تقویت دے سکتی ہے۔
این ویڈیا کے سی ای او جین سن ہوانگ نے تسلیم کیا کہ کمپنی کی چین میں سرگرمیوں پر غیر یقینی صورتحال چھائی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ وہ فی الحال این ویڈیا کو اپنے ملک میں کام نہیں کرنے دینا چاہتا، تاہم چینی مارکیٹ امریکی تحقیق و ترقی کے لیے مالی طور پر نہایت اہم ہے۔
