پاکستان نے افغان طالبان ترجمان کے استنبول مذاکرات سے متعلق بیان کو گمراہ کن اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے ایک بیان میں کہا کہ افغان طالبان کے ترجمان نے مذاکرات کے حوالے سے حقائق کوتوڑمروڑ کرپیش کیا، جبکہ پاکستان کا مؤقف واضح، مستقل اورریکارڈ پرموجود ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی کہا ہے افغان طالبان کے بیانات کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان سرحد پار دہشتگردی کیخلاف فیصلہ کن اقدامات جاری رکھے گا۔ افغان طالبان کے جھوٹے بیانات سے حقائق نہیں بدلیں گے۔
پاکستان نے مذاکرات کے دوران افغانستان کی سرزمین پرموجود دہشتگردوں کی گرفتاری اوران کی حوالگی کا واضح مطالبہ کیا تھا، افغان فریق کے الزامات اوربیانات مکمل طورپرجھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔
پاکستان نے مزید کہا کہ اگرافغانستان سنجیدہ ہے تو دہشتگردوں کی حوالگی سرحدی اینٹری پوائنٹس کے ذریعے ممکن بنائی جا سکتی ہے۔
Pakistan rejects deliberate twisting of facts attributed to Afghan spokesperson regarding Istanbul talks.
Pakistan had demanded that terrorists in Afghanistan posing a threat to Pakistan be controlled or arrested.
When the Afghan side said that they were Pakistani nationals, pic.twitter.com/m8fvr29HXK— Ministry of Information & Broadcasting (@MoIB_Official) November 1, 2025
ترجمان وزارتِ اطلاعات نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کیخلاف غلط بیانی اور حقائق کو مسخ کرنے کی کوششیں ناقابلِ قبول ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر ایسے افراد پاکستانی شہری ثابت ہوں تو پاکستان انہیں قومی قوانین کے مطابق واپس لے کر قانونی کارروائی کرے گا۔
وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اور اس حوالے سے افغان ترجمان کا مؤقف حقائق کے برعکس اور گمراہ کن ہے۔
پاکستان نے افغان فریق کے متضاد دعوؤں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ دہشتگردی کے مسئلے پر مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اوراسلام آباد خطے میں امن واستحکام کیلئے سنجیدہ اوراصولی کوششیں جاری رکھے گا۔
بیان میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ پاکستان امارتِ اسلامی افغانستان کے ساتھ تعمیری روابط، انسدادِ دہشت گردی میں قابلِ تصدیق تعاون، اور مؤثر بارڈر مینجمنٹ کے لیے پرعزم ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان امن و استحکام کو فروغ دیا جا سکے۔
