واشنگٹن، امریکا میں ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان فنڈنگ بل پرتنازع حل نہ ہونے کے باعث حکومتی شٹ ڈاؤن ایک ماہ سے جاری ہے، جس نے پورے ملک کے نظامِ زندگی کو مفلوج کردیا ہے۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق سیاسی اختلافات کے باعث تاحال کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکا، جس کے نتیجے میں عوام، سرکاری ادارے اورمعیشت شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
شٹ ڈاؤن کے باعث ہزاروں سرکاری اداروں میں جزوی یا مکمل کام بند ہے جبکہ لاکھوں سرکاری اہلکار اور فوجی بغیر تنخواہ کے فرائض انجام دینے پرمجبور ہیں۔
استنبول مذاکرات: عبوری رضامندی اور خطے میں امن کی جانب پیش قدمی
رپورٹ کے مطابق کئی محکموں میں عملہ کم ہونے کے باعث اہلکاروں کو نوکریوں سے نکالا بھی جا چکا ہے۔
واشنگٹن نیشنل ایئرپورٹ سمیت کئی ہوائی اڈوں پرپروازیں منسوخ اورتاخیرکا شکارہیں، کیونکہ ایئرٹریفک کنٹرول عملے کی شدید کمی واقع ہو چکی ہے، ہیلتھ سینٹرزمیں بھی عملہ کم ہونے کی وجہ سے مریضوں کوعلاج میں دشواری کا سامنا ہے۔
دوسری جانب خوراک کی فراہمی کے حکومتی مراکزکے باہرعوام کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں، جہاں کھانا حاصل کرنے والوں میں فوجیوں کے اہلِ خانہ بھی شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ سیاسی بحران جلد حل نہ ہوا تو اس کے سنگین معاشی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
