لاہور کی ضلعی عدالت نے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) کے چھ افسران کے جسمانی ریمانڈ میں 3 روز کی توسیع کر دی۔
وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان سے مجموعی طور پر 4 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے برآمد کیے گئے ہیں۔
ایف آئی اے کے مطابق برآمد ہونے والی رقم میں علی رضا سے 70 لاکھ روپے، زوار سے 9 لاکھ روپے، یاسر گجر سے 19 لاکھ روپے، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شعیب ریاض سے 36 لاکھ 48 ہزار روپے، جبکہ ایڈیشنل ڈائریکٹر چوہدری سرفراز سے 1 کروڑ 25 لاکھ 48 ہزار روپے شامل ہیں۔
ایف آئی اے نے عدالت سے مزید 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تاکہ تحقیقات مکمل کی جا سکیں، تاہم ملزمان کے وکلا نے مخالفت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ پہلے ہی 3 دن کا ریمانڈ مکمل ہوچکا ہے اور اب تک کوئی ٹھوس ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
عدالتی کارروائی کے دوران تفتیشی افسر نے بتایا کہ ایف آئی اے نے آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں اور ملزمان کے اثاثوں، بینک ریکارڈ اور متعلقہ کال سینٹرز کی تفصیلات حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ رشوت کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔
دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا اور بعد ازاں 3 روزہ مزید جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ہدایت کی کہ ملزمان کو 3 نومبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
واضح رہے کہ یوٹیوبر سعد الرحمان عرف ڈکی بھائی کی اہلیہ اروب جتوئی کی شکایت پر سائبر کرائم ایجنسی کے 9 افسران کیخلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ایف آئی آر کے مطابق ان افسران نے ڈکی بھائی کو سوشل میڈیا کے ذریعے جوئے کی ایپس کو فروغ دینے کے مقدمے میں گرفتار کیا اور پھر ان سے کروڑوں روپے رشوت بھی لی اور ان کے اکاؤنٹ سے ڈالر بھی اپنے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیے۔
