کراچی:کیمروں کی مدد سے ٹریفک چالان اور بھاری جرمانوں کا سلسلہ جاری ہے،اب تک 16 ہزار سے زائد چالان ہو چکے ہیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق افتتاح کے روز ابتدائی 6 گھنٹے میں 2 ہزار 622 دوسرے روز4 ہزار 301 تیسرے روز 5 ہزار 979 چالان ہوئے۔
ٹریفک پولیس حکام نے کہا کہ گزشتہ شب سے اب تک 3 ہزار 300 سے زائد ٹریفک چالان کئے جا چکے ہیں،گزشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران 2 پولیس موبائل سمیت 35 سرکاری گاڑیوں کے بھی چالان کئے گئے۔
استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ
حکام کے مطابق 33 سرکاری گاڑیاں مختلف سرکاری افسران اور اداروں کے زیر استعمال تھیں، اب تک 5 ہزار سے زائد ای چالان شہریوں کو گھروں پر موصول بھی ہوچکے ہیں۔
کیمروں کی مدد سے ہونے والے چالان میں موٹرسائیکل کے لئے کم از کم جرمانہ 5 ہزار جبکہ گاڑی کے لئے 10 ہزار ہے، کالے شیشے والی گاڑی کو 25 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے۔
ٹریفک پولیس حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ای چالان موصول ہونے پر شہری سہولت مراکز سے بھی رابطہ کر رہے ہیں۔
دوسری جانب جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق نے ای ٹریفک چالان کے خلاف صوبائی اسمبلی میں قرارداد جمع کرادی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری پہلے ہی ٹوٹی سڑکوں اور غائب ٹریفک نشانات کے عذاب میں مبتلا ہیں، اب ان پر بھاری چالان مسلط کر کے مزید ظلم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں تاریخ کی سب سے بڑی ٹیکس وصولی، کاروباری طبقہ مالی دباؤ سے پریشان
انہوں نے قرارداد میں موقف اختیار کیا کہ غریب موٹر سائیکل سواروں کے ہزاروں روپے کے چالان کرنا ظلم ہے، پنجاب میں اس خلاف ورزی پر 200 روپے کا چالان کیا جاتا ہے لیکن سندھ میں 5 ہزار کا جرمانہ لگایا جا رہا ہے یہ کہاں کا انصاف ہے؟
