لیبیا کے ساحلِ سرمان کے قریب تارکینِ وطن کی ایک لکڑی کی کشتی الٹنے سے 18 افراد ہلاک ہوگئے، جبکہ 90 افراد کو بچا لیا گیا جن میں 12 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے ہجرت (IOM) کے مطابق کشتی روانگی کے چند گھنٹوں بعد ہی تیز لہروں کے باعث الٹ گئی۔
بچ جانے والوں میں 29 سوڈانی مرد، ایک سوڈانی خاتون اور ایک بچہ، 18 بنگلہ دیشی مرد، 12 پاکستانی مرد اور 3 صومالی شہری شامل ہیں۔
ہلاک ہونے والوں کی قومیت تاحال معلوم نہیں ہو سکی۔
آئی او ایم نے اسے “بحیرہ روم کے خطرناک ترین راستے” پر پیش آنے والا ایک اور المناک واقعہ قرار دیا، جو شمالی افریقہ سے یورپ جانے والے تارکین وطن کی جانیں نگل رہا ہے۔
ادارے کے مطابق رواں سال اب تک 1,046 افراد اس راستے پر ہلاک یا لاپتہ ہو چکے ہیں، جن میں 527 اموات لیبیا کے ساحل کے قریب رپورٹ ہوئیں۔
This is a migrant boat that arrived on the coast of Spain earlier in the summer.
Good to see the holidaymakers taking the law into their own hands and giving the invaders a warm welcome.
Europe is waking up finally!
They arrived from Morocco, what war is happening in Morocco? pic.twitter.com/DnuE6ZiP1D
— Benonwine (@benonwine) October 8, 2025
گزشتہ ہفتے تیونس کے قریب ایک اور کشتی حادثے میں 40 افریقی تارکین وطن جاں بحق ہوئے تھے۔
آئی او ایم کا کہنا ہے کہ وہ مقامی اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ افراد کو طبی امداد اور ضروری سہولیات فراہم کر رہی ہے، اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ “بحرِ روم میں مزید انسانی المیوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔”
