سپریم کورٹ نے پی ٹی آئی رہنما شبلی فراز کی خالی نشست پر سینیٹ الیکشن روکنے کی استدعا مسترد کر دی۔
آئینی بنچ نے شبلی فراز کی اپیل پر پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے اپیل نمٹا دی، عدالت نے پشاور ہائیکورٹ کو شبلی فراز کی زیر التواء درخواست پر فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا۔
درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ سینیٹ الیکشن میں مداخلت نہیں کریں گے ، آپ نے سنیٹ الیکشن کیلئے امیدوار بھی نامزد کر دیا ،جب امیدوار نامزد کردیا تو حکم امتناع کیوں مانگ رہے ہیں؟۔
گھریلو تشدد اور بیوی کے خلع سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ
بعد ازاں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سپریم آئینی بنچ کے سامنے شبلی فراز کی درخواست پر سماعت تھی ،ہم نے الیکشن کمیشن کی جانب سے نااہلی کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پشاور ہائیکورٹ میں سماعت ملتوی ہوئی تھی آج سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا ،ہائیکورٹ کو ڈایریکشن جاری کی گئی ہیں کہ دونوں فریقین کو سن کر فیصلہ کریں ،مجھے افسوس ہے کل سینیٹ کا الیکشن ہو رہا ہے۔
علی امین گنڈاپور کیس، پشاور ہائیکورٹ نے وفاق سے 14 روز میں رپورٹ طلب کرلی
ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے کہاں ہم مزید پیچیدگیوں میں نہیں جانا چاتتے ہیں ،عدالت نے کہا اور بھی بہت سارے لوگوں کے نااہلی کے معاملات اس سے منسلک ہیں،امید ہے ہائیکورٹ میں کیس چلے گا تو ہمیں ریلیف ملے گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے پاس اختیار نہیں کہ چئرمین سینیٹ کے ریفرنس کے بغیر کسی سنیٹر کو نااہل کرے۔
