امریکا میں حکومت کے طویل شٹ ڈاؤن نے سیاسی منظرنامے کو ‘تاش کا کھیل’ بنا دیا ہے، جہاں ہر فریق اس انتظار میں ہے کہ بازی کس کے حق میں پلٹے گی، یعنی عوام اپنی خواری کا ذمہ دار کس پارٹی کو ٹھہرائیں گے۔
وفاقی حکومت ہفتوں سے بند ہے، لاکھوں سرکاری ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں، اور وہ کروڑوں شہری جو حکومتی سبسڈی سے ہیلتھ انشورنس حاصل کرتے ہیں، غیر یقینی کا شکار ہیں۔
پسِ منظر میں یہ لڑائی صرف بجٹ کی نہیں، بلکہ اس بات کی ہے کہ الزام آخر کار کس پارٹی کے سر جاتا ہے۔
ڈیموکریٹس کے پتّے سادہ، ری پبلکنز کی تاش الجھی ہوئی
ڈیموکریٹک پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس زیادہ واضح اور عوام کو بہتر سمجھ آنے والا مؤقف ہے۔ وہ مؤقف جو براہِ راست عام امریکیوں کے مسائل سے جڑا ہے: ’’صحت کا تحفظ خطرے میں ہے۔‘‘
Today, 7 million people came out to protest Trump at 2,700 different locations.
This is now officially the largest protest in American history.
America will not go quietly.pic.twitter.com/0GugThsGFh
— Micah (@micah_erfan) October 18, 2025
ری پبلکنز کے پاس اگرچہ اپنے مؤقف پھیلانے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دیا ہوا طاقتور ‘لاؤڈ اسپیکر’ ہے، مگر ناقدین کہتے ہیں کہ ان کا پیغام ’’قانونی موشگافیوں‘‘ میں الجھ گیا ہے۔
اوپر سے امریکی عوام کی رائے تقسیم ہے۔ تازہ سروے کے مطابق زیادہ تر لوگ ری پبلکنز کو ذمہ دار سمجھتے ہیں، حالانکہ ٹرمپ کی مقبولیت پر ابھی کوئی بڑا اثر نہیں پڑا۔
فریقین کے مطالبات
یہ شٹ ڈاؤن امریکا کی تاریخ کا دوسرا طویل ترین قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈیموکریٹس حکومت سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ہیلتھ انشورنس سبسڈیز جاری رکھے تاکہ عام شہریوں کے لیے علاج کی سہولت برقرار رہے۔
ری پبلکنز کا جواب ہے: ’’پہلے بجٹ پاس کر کے حکومتی نظام کھولو، پھر بات ہوگی۔‘‘
چونکہ صدر، ایوان نمائندگان اور سینیٹ سب پر ری پبلکنز کا کنٹرول ہے، اس لیے ڈیموکریٹس کہتے ہیں کہ اب ’’ذمہ داری دوسروں پر ڈالنا ممکن نہیں‘‘۔
ڈیموکریٹس کا کارڈ: عوامی ہمدردی
سیاسی تجزیہ کار میتھیو فوسٹر کے مطابق ڈیموکریٹس نے درست اندازہ لگایا ہے کہ عوام کو صحت اور گھریلو مالی مشکلات کے بیانیے سے زیادہ وابستگی ہے۔
ہیلتھ پالیسی ماہر ایشلے کرزنجر کے مطابق 78 فیصد امریکی، جن میں ری پبلکن ووٹرز بھی شامل ہیں، سمجھتے ہیں کہ کانگریس کو 2025 کے بعد بھی طبی سبسڈی بڑھانی چاہیے۔
ری پبلکنز کی پتّے بدلنے کی عادت
ابتدا میں ری پبلکن رہنماؤں، بشمول ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور اسپیکر مائیک جانسن نے نعرہ لگایا کہ’’ڈیموکریٹس غیر قانونی تارکین وطن کے لیے مفت صحت سہولتیں دینا چاہتے ہیں۔‘‘
مگر جلد ہی یہ مؤقف کمزور پڑ گیا کیونکہ ایسے افراد ویسے بھی ان سہولتوں کے اہل نہیں۔ اب ری پبلکنز اپنی دلیل کو سینیٹ کے قواعد اور ’’فلبسٹر‘‘ کے تکنیکی پہلوؤں تک محدود کر رہے ہیں۔
OMG, this is hilarious 🤣
President Trump posted himself dropping mud (or shit?) all over the No Kings protesters including Harry Sisson 😭
Congrats to @xerias_x on the banger post. pic.twitter.com/N7JBhViAnq
— MJTruthUltra (@MJTruthUltra) October 19, 2025
سیاسی مبصرین کہتے ہیں کہ ’’عام ووٹر قانون سازی کی باریکیاں نہیں سمجھتا، وہ صرف اپنا چیک اپ اور علاج چاہتا ہے۔‘‘
کس کے پاس بہتر پتّے ہیں؟
ڈیموکریٹس جذباتی کارڈ کھیل رہے ہیں؛ صحت، تنخواہیں، اور گھریلو مسائل۔
ری پبلکنز طاقت اور طریقہ کار پر انحصار کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کی جارحانہ سیاست اپنی جماعت کے حامیوں کو جوش دلاتی ہے، لیکن اس سے عام ووٹرز ناراض بھی ہو سکتے ہیں۔
تازہ ترین سروے کے مطابق:
روئٹرز/ایپسوس: 50 فیصد عوام ری پبلکنز کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، 43 فیصد ڈیموکریٹس کو۔
ہارٹ ریسرچ: 52 فیصد ٹرمپ اور ری پبلکنز کو قصوروار ٹھہراتے ہیں جبکہ 41 فیصد ڈیموکریٹس کو۔
دلچسپ بات یہ کہ شٹ ڈاؤن کے باوجود ٹرمپ کی مقبولیت 40 سے بڑھ کر 42 فیصد ہو گئی۔
آگے کا کھیل
ڈیموکریٹس اب شٹ ڈاؤن سے آگے دیکھ رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں صحت کا مسئلہ مرکزی نعرہ بنے۔
دوسری طرف ری پبلکنز سمجھتے ہیں کہ یہ دباؤ انہیں حکومت کے ڈھانچے میں بڑی تبدیلیاں لانے کا موقع دے سکتا ہے۔
مگر تجزیہ کار پیٹر لاگے خبردار کرتے ہیں کہ ’’دونوں پارٹیاں ایک دوسرے پر امریکا کو توڑنے کا الزام لگا رہی ہیں اور اگر محتاط نہ رہیں، تو دونوں صحیح ثابت ہوں گی۔‘‘
