چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹوکیو روانہ ہو گئے ہیں۔
وہ جاپان کے بادشاہ نارُوہیتو اور حال ہی میں منتخب ہونے والی خاتون وزیرِاعظم سنائے تاکائچی سے ملاقات کریں گے۔
صدر ٹرمپ اس وقت اپنے اب تک کے طویل ترین غیر ملکی سفر پر ہیں۔ ان کا یہ دورہ ایشیا میں تجارتی معاہدوں، سرمایہ کاری اور دفاعی تعاون کر فروغ دینے کے لیے ہے۔
President Trump boarded Air Force One tonight (ET in the USA) in Kuala Lampur, Malaysia. He is on his way to Tokyo, Japan.
. pic.twitter.com/iKo7VuEbyZ— Paul Villarreal (AKA Vince Manfeld) (@AureliusStoic1) October 27, 2025
ملائیشیا میں قیام کے دوران ٹرمپ نے تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان جنگ بندی معاہدے کی نگرانی کی اور کئی تجارتی معاہدوں کا اعلان کیا۔
ٹرمپ کا دورہ جمعرات کو جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ سربراہ اجلاس پر اختتام پذیر ہوگا۔ دونوں رہنما دنیا کی سب سے بڑی دو معیشتوں کے درمیان نئے تجارتی تنازع کو روکنے کی کوشش کریں گے۔
Trump takes off to Malaysian music to ‘make Japan buy US trucks, soy & gas’ pic.twitter.com/X5vRlt1Zb9
— RT (@RT_com) October 27, 2025
صدر ٹرمپ کو جاپان سے 550 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی یقین دہانی حاصل ہو چکی ہے، جس کے بدلے میں جاپانی مصنوعات پر عائد کچھ سخت درآمدی محصولات میں نرمی کی توقع ہے۔
وزیرِاعظم تاکائچی امریکی گاڑیاں، سویابین اور قدرتی گیس خریدنے کے وعدے کے ذریعے ٹرمپ کو مزید متاثر کرنے کی کوشش کریں گی۔
ملائیشیا سے روانگی سے قبل ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر پیغام میں کہا کہ ملائیشیا ایک شاندار اور متحرک ملک ہے۔ بڑے تجارتی اور ’ریئر ارتھ‘ معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ سب سے اہم، تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان امن معاہدہ—اب کوئی جنگ نہیں! لاکھوں جانیں بچ گئیں۔ اب جاپان کے لیے روانہ!”
وزیرِاعظم تاکائچی نے ہفتے کو صدر ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا کہ جاپان اور امریکہ کے اتحاد کو مضبوط بنانا اُن کی “سب سے بڑی ترجیح” ہے۔
ٹوکیو میں ٹرمپ کی آمد کے پیشِ نظر ہزاروں پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔
🇯🇵 Armored vehicles in downtown Tokyo: Japan’s Type 16s spotted on the capital’s streets
With no official explanation given, many believe it’s linked to Trump’s upcoming visit on October 27. pic.twitter.com/kyotnfgI7n
— Sputnik (@SputnikInt) October 24, 2025
