ترکیہ میں جاری پاک افغان مذاکرات کے دوران پاکستانی وفد نے افغان طالبان وفد کو حتمی مؤقف پیش کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے کی جانے والی دہشتگردوں کی سر پرستی منظور نہیں،پاکستان نے واضح کردیا دہشتگردی کے خاتمے کیلئےٹھوس اور یقینی اقدامات کرنا ہوں گے۔
پاک افغان مسئلہ جلد حل کروں گا ، صدر ٹرمپ
پاکستانی مؤقف کے برعکس طالبان کے دلائل غیر منطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر ہیں،نظر آ رہا ہے کہ طالبان کسی اور ایجنڈے پر چل رہے ہیں۔
یہ ایجنڈا افغانستان، پاکستان اور خطے کے استحکام کے مفاد میں نہیں ،مذاکرات میں مزید پیشرفت افغان طالبان کے مثبت رویے پر منحصر ہے۔
پاکستان نے جو مطالبات پیش کیے وہ مکمل طور پر واضح، شواہد پر مبنی اور مسئلے کا حقیقی حل ہیں،افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، عدم سنجیدگی اور عدم تعاون دیگر فریقوں خصوصاً میزبان پر بھی واضح ہیں۔
پاکستانی وفد نے واضح کر دیا دہشتگردی کے مرکزی مطالبات پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ،میزبان اب بھی کوشش کر رہے ہیں طالبان وفد زمینی حقائق اور شواہد کو سمجھے۔میزبان کوشش کر رہے ہیں سنجیدگی سے تعاون کرے تاکہ مذاکرات نتیجہ خیز ہو سکیں۔
مذاکرات کا دوسرا دور ، پاکستان نے طالبان کو دہشتگردی کی روک تھام کا جامع پلان دیدیا
دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات سے معاملات حل نہیں ہوتے تو افغانستان کے ساتھ ہماری کھلی جنگ ہے۔
واضح رہے دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور دوحہ قطر میں ہوا تھا ، اب دوسرا دور استنبول ترکیہ میں جاری ہے ۔
