امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان جاری تمام تجارتی مذاکرات فوری طور پر ختم کرںے کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ فیصلہ اُس اشتہاری مہم کے بعد کیا گیا ہے جسے انہوں نے “جھوٹا اور گمراہ کن” قرار دیا۔ اس اشتہار میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی پرانی تقاریر کے تراشے استعمال کیے گئے تھے، جن میں وہ درآمدی اشیا پر عائد ٹیرِف کی مخالفت کرتے دکھائی دیے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ “ان کے انتہائی غیر مناسب رویے کی بنیاد پر، کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی مذاکرات ختم کیے جاتے ہیں۔”
امریکی صدر نے رواں سال کے آغاز میں کینیڈین اسٹیل، ایلومینیم اور آٹو انڈسٹری پر بھاری محصولات عائد کیے تھے، جس کے جواب میں اوٹاوا نے بھی جوابی اقدامات کیے۔
دونوں ممالک کے درمیان ان شعبوں پر سمجھوتے کے لیے کئی ہفتوں سے بات چیت جاری تھی۔
ادھر اونٹاریو کے وزیرِاعلیٰ ڈگ فورڈ نے کہا کہ اُن کی صوبائی حکومت کی جانب سے نشر ہونے والا یہ اشتہار واقعی صدر ٹرمپ کی توجہ کا باعث بنا۔ فورڈ نے کہا کہ “میں نے سنا ہے صدر نے ہمارا اشتہار دیکھا ہے، مجھے یقین ہے وہ خوش نہیں ہوں گے۔”
رونالڈ ریگن پریزیڈنشل فاؤنڈیشن نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ اشتہار میں ریگن کی 1987ء کی ریڈیو تقریر کے “منتخب آڈیو اور ویڈیو کلپس” استعمال کیے گئے، اور اونٹاریو حکومت نے اس کے لیے اجازت نہیں لی۔
فاؤنڈیشن نے مزید کہا کہ وہ اس معاملے پر قانونی کارروائی پر غور کر رہی ہے۔
کینیڈین حکومت نے اس بارے میں تاحال کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسیوں نے امریکی محصولات کو 1930ء کی دہائی کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے، اور وہ اکثر دیگر ممالک پر مزید محصولات لگانے کی دھمکیاں دیتے رہے ہیں، جس سے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔
کینیڈین وزیرِاعظم مارک کارنی نے کہا ہے کہ اگر واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات ناکام ہوئے تو کینیڈا اپنی منڈیوں تک “غیر منصفانہ امریکی رسائی” کی اجازت نہیں دے گا۔
یاد رہے کہ امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کے درمیان 2020ء کے آزاد تجارتی معاہدے کا آئندہ سال دوبارہ جائزہ لیا جانا ہے اور موجودہ کشیدگی اس عمل کو مزید مشکل بنا سکتی ہے۔
