شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ ٹی ایل پی پر قانون کے مطابق ابھی تک پابندی عائد نہیں ہوئی ہے۔
ہم نیوزکے پروگرام ” فیصلہ آپ کا ” میں گفتگو کرتے ہوئے شیرافضل مروت نے کہا کہ وفاقی حکومت کی جانب سے 2 صورتوں میں کسی بھی پارٹی پرپابندی لگا ئی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی پارٹی پرملکی سالمیت اور ملکی خودمختاری کے تحت پابندی لگائی جاسکتی ہے، کسی بھی جماعت کو دہشت گرد تنظیم ڈیکلیئر کرنے کا ثبوت وفاقی حکومت پیش کرے گی۔
وفاقی کابینہ کے فیصلہ پرریفرنس سپریم کورٹ میں جائے گا، کسی بھی جماعت کو کالعدم قرار دینے کے حتمی فیصلے کا اختیارسپریم کورٹ کے پاس ہے۔
پابندی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں جائے گا جہاں حتمی فیصلہ ہوگا، سپریم کورٹ میں 15دن کے اندرریفرنس بھیجنا ہوتا ہے، سپریم کورٹ کا فیصلہ ہاں میں آگیا تو پابندی عائد ہوگی، آئین تمام شہریوں کو پرامن احتجاج کا حق دیتا ہے۔
وزیراعظم کے کوآرڈینیٹراختیارولی خان نے کہا ہے کہ سیاست اورجمہوریت میں گولی کی کوئی گنجائش نہیں ہے، ٹی ایل پی کی کوئی بھی سرگرمی دیکھ لیں وہ پرتشدد ہی ہوگی اورجہاں سے فنڈنگ آتی ہے وہ بھی دیکھی جائے گی۔
اسپیکر پنجاب اسمبلی نے اپوزیشن کے تین معطل ارکان کو بحال کر دیا
اختیارولی خان نے کہا کہ ٹی ایل پی نےجماعت کا پاک نام رکھ کرغلیظ سیاست کی ہے، جوٹی ایل پی کا رستہ اپنائے گا وہ سیاسی جماعت نہیں ہوگی، سیاستدانوں کے پاس ہتھیارتونہیں ہوتے ہیں،جوہتھیاراٹھا کرچلتے ہیں وہ سیاستدان ہوتے ہی نہیں ہیں۔
