اسلام آباد، وزیراعظم محمد شہبازشریف کی زیر صدارت معیشت و صنعت کے مختلف شعبوں کے نمائندہ صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملکی معیشت کی بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور برآمدات میں اضافے کے لیے پیش کی گئی تجاویز پر تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت معیشت کی پائیدارترقی کے لیے نجی شعبے کے تعاون کو کلیدی حیثیت دیتی ہے ملکی برآمدات میں اضافہ اورنئی صنعتوں کے قیام سے مثبت معاشی اعشاریوں کو دیرپا ترقی میں بدلا جا سکتا ہے۔
حکومت کی ترجیح ہے کہ کاروبارمیں آسانی پیدا کی جائے، سرمایہ کاروں کو درپیش رکاوٹیں دورکی جائیں اور ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
شہبازشریف نے کہا کہ صنعتی و معاشی ترقی کے لیے کاروباری طبقے کو ہرممکن سہولت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ وفاقی ادارے ماہرین اور صنعتکاروں کی تجاویز پر اپنی حکمت عملی میں مزید بہتری لائیں گے۔
وزیراعظم نے پبلک اور پرائیویٹ سیکٹر کے باہمی تعاون کو قومی معیشت کے استحکام کے لیے ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو علاقائی و عالمی سطح پر کاروبار و سرمایہ کاری کا پرکشش مرکز بنایا جائے گا۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ پیش کی گئی سفارشات کی روشنی میں جامع اور نتیجہ خیز پالیسی تیار کی جائے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ سکیں، صنعتی لاگت میں کمی لائی جا سکے اور مقامی مصنوعات کو علاقائی منڈیوں میں مسابقتی بنایا جا سکے۔
وزیراعظم نے صنعتی اور زرعی شعبے کیلیے بجلی کی قیمت میں کمی کا اعلان کردیا
اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر توانائی سردار اویس لغاری، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر ریلوے حنیف عباسی، وزیر اطلاعات و نشریات عطاء تارڑ، وزیر تجارت جام کمال، وزیر تحفظ خوراک رانا تنویر حسین، وزیر آئی ٹی شیزا فاطمہ خواجہ، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی سمیت متعلقہ وزارتوں کے اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔
