راولپنڈی ٹیسٹ میں پاکستان کو جنوبی افریقا کے ہاتھوں 8 وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ کامیابی پروٹیز ٹیم کی 2007 کے بعد پاکستانی سرزمین پر ٹیسٹ کرکٹ میں پہلی فتح ہے۔
میچ کے چوتھے روزپاکستان کی ٹیم دوسری اننگ میں صرف 138 رنز بنا کر ڈھیر ہو گئی۔ جنوبی افریقی ٹیم نے 68 رنز کا ہدف دو وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا۔
پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان کی بیٹنگ لائن ایک بار پھر لڑکھڑا گئی۔ بابر اعظم اور محمد رضوان نے اننگز کا آغاز کیا، چوتھے روز بابر نے شاندار نصف سنچری اسکور کی لیکن دن کے پہلے ہی اوور میں وہ آؤٹ ہوگئے۔ محمد رضوان بھی زیادہ دیر وکٹ پر نہ ٹھہر سکے اور 18 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئے۔
اختتامی لمحات میں سلمان علی آغا کے 28 اور ساجد خان کے 13 رنز کی بدولت قومی ٹیم کی مجموعی اننگز 138 رنز پر سمٹ گئی، جس کے ساتھ ہی جنوبی افریقہ کو جیت کے لیے صرف 68 رنز کا آسان ہدف ملا۔
پاکستان کی بیٹنگ پرفارمنس انتہائی مایوس کن رہی، 6 کھلاڑی ڈبل فیگرز میں بھی داخل نہ ہوسکے۔ بابر اعظم 50 رنز کے ساتھ نمایاں رہے، جبکہ دیگر بیٹرز میں سلمان علی آغا 28، محمد رضوان 18، سعود شکیل 11 اور ساجد خان 13 رنز بنانے میں کامیاب رہے۔
جنوبی افریقہ کی کارکردگی
مہمان ٹیم نے 68 رنز کا ہدف صرف دو وکٹوں کے نقصان پر حاصل کرلیا۔ جنوبی افریقہ کے نچلے درجے کے بلے بازوں نے شاندار مزاحمت کرتے ہوئے میچ کا رخ ہی بدل دیا۔ متو سامی نے کیریئر بیسٹ 87 رنز بنائے، جبکہ کاگیسو ربادا نے اپنی کیریئر کی بہترین اننگز کھیلتے ہوئے 71 رنز جوڑے۔
بولنگ میں سائمن ہارمر نے 6 وکٹیں حاصل کیں، کیشو مہاراج نے 2 اور ربادا نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔
پاکستانی بیٹرز کی ناکامی
قومی ٹیم کے آخری چار بیٹرز دونوں اننگز میں بری طرح ناکام رہے۔ شاہین شاہ آفریدی، نعمان علی، ساجد خان اور آصف آفریدی نے مجموعی طور پر دو اننگز میں صرف 28 رنز بنائے۔ شاہین دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوئے، ساجد نے 5 اور 13، نعمان نے 6 اور صفر جبکہ آصف نے 4 اور صفر رنز بنائے۔
یاد رہے کہ ٹیسٹ کے ابتدائی دو دنوں تک میچ پر پاکستان کی گرفت مضبوط تھی۔ قومی بولرز نے جنوبی افریقہ کے 8 کھلاڑی 235 رنز پر آؤٹ کردیے تھے۔
پاکستان نے پہلی اننگز میں 333 رنز بنائے تھے، تاہم جنوبی افریقہ نے شاندار کم بیک کرتے ہوئے 404 رنز بنا کر 71 رنز کی برتری حاصل کرلی، جو آخرکار فیصلہ کن ثابت ہوئی۔
