امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمر پیوٹن کو یوکرین میں جنگ بندی پر آمادہ کرنے لیے نئے حربے آزمانا شروع کر دیے ہیں۔
انہوں نے روس کے خلاف یوکرین جنگ سے متعلق پہلی بار نئی پابندیاں عائد کرتے ہوئے روس کی بڑی تیل کمپنیوں ‘لوک آئل’ اور ‘روس نیفٹ’ کو نشانہ بنایا ہے۔
یہ اقدام پیوٹن سے ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی ناراضی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔
ادھر یورپی یونین نے بھی ماسکو کے خلاف 19ویں پابندیوں کے پیکج کی منظوری دیتے ہوئے روسی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمد پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ امریکہ روس کیخلاف مزید اقدامات کے لیے بھی تیار ہے اور ماسکو سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتا ہے۔
وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے مطابق “پوٹن کی جنگی مشین کو مالی مدد دینے والی دو بڑی روسی تیل کمپنیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔”
واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے اپنے روسی ہم منصب سے متوقع ملاقات بھی منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
During a recent address from the Oval Office with NATO Secretary-General Mark Rutte, President Donald J. Trump confirmed the cancellation of the Budapest Summit with Russian President Vladimir Putin, explaining that the meeting’s objectives were not aligned with our strategic… pic.twitter.com/kVoNkL3JoV
— OSINT Europe (@Osinteurope) October 22, 2025
پابندیوں کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 2 ڈالر فی بیرل سے زائد بڑھ گئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی ہے۔
علاوہ ازیں یورپی یونین کی جانب سے روس کے ‘شیڈو فلیٹ’ میں شامل 117 مزید جہازوں کو بھی بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے جبکہ روسی سفارت کاروں پر سفری پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
