پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مرکزی رہنما حافظ گل بہادر کو ہلاک کر دیا ہے۔
باوثوق ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر افغانستان کے صوبہ خوست کے علاقے ارگون میں 17 اور 18 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب ہونے والی کاروائی میں مارا گیا۔
کارروائی کے دوران اس کی شوریٰ کے کئی اہم ارکان بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق گل بہادر کو ہلاکت کے بعد اسی رات خفیہ طور پر دفنا دیا گیا۔
یہ کارروائی پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث نیٹ ورکس کے لیے ایک فیصلہ کن دھچکہ قرار دی جا رہی ہے۔
Pakistan struck verified camps of Kharji Gul Bahadur in border areas of North and South Waziristan districts along Pak-Afghan border.
During 48 hours-long ceasefire, Kharjis operating from Afghanistan, attempted to launch multiple terrorists attacks inside Pakistan which were…— Attaullah Tarar (@TararAttaullah) October 18, 2025
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستان نے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں افغان حدود کے اندر موجود خارجی حافظ گل بہادر گروپ کے کیمپوں پر ٹھوس خفیہ معلومات کی بنیاد پر حملے کیے۔
مصدقہ انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ان حملوں میں حافظ گل بہادر گروپ کی قیادت سمیت 60 سے 70 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان سے سرگرم یہ دہشت گرد پاکستان کے اندر متعدد حملے کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم سیکیورٹی فورسز نے ان عزائم کو ناکام بنا دیا۔
واضح رہے کہ کچھ روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے ایکس پر جاری ایک بیان میں سیکیورٹی فورسز شمالی اور جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقوں میں حافظ گل بہادر گروپ کے تصدیق شدہ کیمپوں کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی تھی۔
انہوں کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان 48 گھنٹوں کیلئے ہونے والی عارضی جنگ بندی کے دوران، افغانستان سے سرگرم خارجیوں نے پاکستان کے اندر متعدد دہشت گرد حملے کرنے کی کوشش کی جس کا سیکیورٹی فورسز نے مؤثر انداز میں جواب دیا۔
جوابی کارروائی کے دوران 100 سے زائد خارجیوں کو جہنم واصل کر دیا گیا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق گل بہادر گروپ نے بھی شمالی وزیرستان میں آئی ای ڈی حملہ کیا جس میں شہریوں اور ایک فوجی کی شہادت ہوئی اور متعدد زخمی ہوئے۔
دہشت گردی کی ان کاروائیوں کے بعد ہی گل بہادر گروپ پر فیصلہ کن حملہ کیا گیا جس میں ذرائع کے مطابق حافظ گل بہادر بھی نشانہ بنا۔
