پشاور، مقامی عدالت نے شہری پر جھوٹا مقدمہ درج کرنے پر تھانہ متھرا کے ایس ایچ او کو ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج مرزا محمد کاشف نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایس ایچ او کو سنٹرل جیل منتقل کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پراسیکیوشن کے مطابق، مجرم ایس ایچ او نے ایک شہری کے خلاف منشیات رکھنے کا جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا، تاہم تفتیش کے دوران شہری پر الزام ثابت نہ ہوسکا اور عدالت نے اسے بری کر دیا۔
عدالت نے جعل سازی اور جھوٹی ایف آئی آر درج کرنے پر ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا حکم دیا، قانونی کارروائی کے دوران ایس ایچ او بارہا عدالت میں پیش نہ ہوئے، جس پر عدالت نے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کیے۔
فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے ایس ایس پی پشاور کو ہدایت کی کہ مجرم کو فوری گرفتار کر کے سنٹرل جیل منتقل کیا جائے،عدالت نے جیل حکام کو بھی ہدایت دی کہ مجرم کی حوالگی کے بعد تفصیلی رپورٹ عدالت میں جمع کرائی جائے۔
عدالت نے قرار دیا کہ جھوٹے مقدمات کا اندراج شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس کے مرتکب افراد کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
