کراچی، وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے بالآخر گندم کے حوالے سے سندھ کا مؤقف تسلیم کر لیا ہے، جو صوبائی حکومت کی بڑی کامیابی ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبے میں اس سال 8 سے 12 لاکھ ٹن کے درمیان گندم کی پیداوار کے حوالے سے فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے وفاقی حکومت نے صوبوں کواعتماد میں لیے بغیر آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع کیے تھے۔
ہم چار ہزار روپے فی من گندم کی قیمت چاہتے تھے، لیکن وفاق نے 35 سو روپے فی من مقرر کی۔ ہم نے اسے ملکی مفاد میں تسلیم کیا مگر کسانوں کو فائدہ پہنچانے پر زور دیا۔”
انہوں نے مزید کہا کہ جب چار ہزار روپے من قیمت مقرر کی گئی تو ریکارڈ پیداوار حاصل ہوئی، تاہم اس سال قیمت مقرر نہ ہونے سے پیداوار میں کمی آئی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کسانوں کے لیے ریلیف پیکیج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یکم نومبر سے چھوٹے کسانوں کو 14 ہزار روپے مالیت کی ایک بوری ڈی اے پی فراہم کی جائے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا خواتین کو مفت الیکٹرک اسکوٹیز فراہم کرنے کا اعلان
چار لاکھ سے زائد کسان اس پیکیج سے مستفید ہوں گے، جبکہ “ہاری کارڈ” پر رجسٹریشن تیزی سے جاری ہے، صوبے بھر میں 22 لاکھ ایکڑ سے زائد زمین پر گندم کی کاشت کی جائے گی۔
