بنگلہ دیش کی ایک خصوصی عدالت نے 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران جبری گمشدگیوں اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات میں 15 اعلیٰ فوجی افسران کو عدالتی تحویل میں دے دیا ہے۔
ان میں 14 حاضر سروس افسران اور ایک ریٹائرڈ افسر شامل ہے۔
یہ بنگلہ دیش کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ اس نوعیت کے انسانی حقوق کے مقدمات میں اعلیٰ فوجی افسران کو سویلین عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
زیرِ حراست افسران میں 5 جنرل بھی شامل ہیں، جن پر الزام ہے کہ انہوں نے شیخ حسینہ واجد کے دورِ حکومت میں ایک خفیہ حراستی مرکز قائم کیا جہاں سیاسی مخالفین کو غیر قانونی طور پر قید کر کے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
New Bangladesh :Court orders 15 serving military officers to be sent to prison… pic.twitter.com/G7YMA3CJcr
— Y WORLD NEWS (@Y_world1news) October 22, 2025
یہ تمام افسران بنگلہ دیش کی فوجی انٹیلی جنس یا بدنامِ زمانہ پیرا ملٹری فورس ریپڈ ایکشن بٹالین (RAB) سے منسلک رہے ہیں۔ یاد رہے کہ RAB پر 2021 میں امریکہ نے پابندیاں عائد کی تھیں۔
شیخ حسینہ اور مشیروں کے اخبارات میں اشتہارات جاری
ڈھاکہ میں قائم انٹرنیشنل کرائمز ٹربیونل نے سابق وزیرِ اعظم شیخ حسینہ، ان کے سیکیورٹی مشیر اور دیگر مفرور افراد کے خلاف اخبارات میں اشتہارات جاری کرنے کا حکم بھی دیا ہے تاکہ وہ عدالت میں پیش ہوں۔
شیخ حسینہ اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں اور عدالت میں پیش ہونے سے انکاری ہیں۔ ان پر انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت کی استدعا کی گئی ہے۔
اقوامِ متحدہ کی حمایت
اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے اس عدالتی اقدام کو “احتساب کی جانب ایک اہم قدم” قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے۔
حسینہ واجد کی حکومت نے جولائی تا اگست 2024 کے درمیان ہونے والے عوامی احتجاج کے دوران مظاہروں کو کچلنے کے لیے طاقت کا بے دریغ استعمال کیا تھا۔
Bangladesh The situation in Dhaka has gone completely out of the control of the forces Despite direct firing, a large number of people are on the streets against fascism and Hasina Wajid#Bangladesh #Pakistan #ViralVideos #Protest #StudentsUnderAttack pic.twitter.com/VzkzuV0CYv
— Hamdan News (@HamdanWahe57839) July 20, 2024
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران تقریباً 1,400 افراد سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں جاں بحق ہوئے تھے۔
فوج کا موقف
فوج نے کہا ہے کہ وہ عدالتی کارروائی میں مکمل تعاون کرے گی۔ چیف پراسیکیوٹر تاج الاسلام کے مطابق گرفتار افسران نے قانون کے احترام کا اظہار کرتے ہوئے عدالتی عمل میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔
