وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے اعلان کیا ہے کہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (mdcat) میں نصاب سے باہر سوالات شامل ہونے کا دیرینہ مسئلہ بالآخر حل کرلیا گیا ہے، جس سے ملک بھر کے طلبہ کو ایک منصفانہ اور شفاف امتحانی نظام میسر آئے گا۔
وفاقی دارالحکومت میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ صحت نے بتایا کہ تمام صوبوں کے وائس چانسلرز سے مشاورت کے بعد ایم ڈی کیٹ کے لیے یکساں سوالنامہ تیار کرلیا گیا ہے۔ اس فیصلے سے ملک بھر میں امتحان کے معیار اور مساوات کو یقینی بنایا جائے گا۔
مصطفیٰ کمال کے مطابق، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (mdcat) نے تین ہزار سوالات پر مشتمل ایک جامع سوال بینک تیار کیا ہے۔ اس بینک سے ہر صوبے کو تین الگ الگ پرچے فراہم کیے جائیں گے، جن میں سے وہ امتحان کے لیے کوئی ایک منتخب کر سکیں گے۔
انہوں نے کہا کہ نصاب سے باہر سوالات کے تنازع کا باب ہمیشہ کے لیے بند ہو گیا ہے۔ یہ اقدام شفافیت، میرٹ اور تمام طلبہ کے لیے مساوی مواقع کی ضمانت ہے۔
وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ پی ایم ڈی سی نصاب اور سوالنامے کی تیاری کی ذمے دار ہوگی، جبکہ اگر کسی صوبے میں امتحانی پرچہ لیک ہوا تو اس کی ذمے داری متعلقہ صوبائی حکام پر عائد ہوگی۔
وزیرِ صحت نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف امتحان کا انعقاد نہیں بلکہ ایسا نظام بنانا ہے جو مستقبل کے ڈاکٹرز کے انتخاب میں شفافیت، میرٹ اور اعتماد کو یقینی بنائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طلبہ اب صرف اپنی تیاری پر توجہ دیں، حکومت نے امتحان کو منصفانہ بنانے کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے ہیں۔
یاد رہے ایم ڈی کیٹ 2025 بروز اتوار 26 اکتوبر کو منعقد ہوگا، جس میں ایک لاکھ 40 ہزار 125 امیدوار حصہ لیں گے۔ ملک بھر میں 35 امتحانی مراکزقائم کیے گئے ہیں، جب کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی طلبہ کے لیے بھی ایک بین الاقوامی سینٹر ریاض، سعودی عرب میں بنایا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ کے مراکز کا اعلان ، ایک لاکھ ، 40 ہزار امیدوار حصہ لیں گے
لاہور بورڈ نے امتحانات میں بائیو میٹرک حاضری کا نظام متعارف کروا دیا
