لتھوینیا کے دارالحکومت میں فضا میں اڑنے والے درجنوں غباروں کی وجہ سے ولنیئس ایئرپورٹ ہنگامی طور پر بند کر دیا گیا۔
حکام کے مطابق یہ اسمگلنگ میں استعمال ہونیوالے غبارے تھے جو مبینہ طور پر ڈرگ مافیا نے اڑائے۔
حکام نے اس واقعے کا الزام بیلاروس پر عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غبارے اسگریٹ اسمگلنگ کے لیے استعمال ہوتے ہیں اور بیلاروس سے لتھوینیا کی فضائی حدود میں داخل ہوئے۔
لتھوینیا کے نیشنل کرائسس مینجمنٹ سینٹر (NCMC) کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ سے پروازیں مقامی وقت کے مطابق رات 10:30 بجے سے صبح 6:30 بجے تک مکمل طور پر معطل رہیں۔
🚧 Lithuania🇱🇹 temporarily closed Vilnius Airport and two Belarus border crossings after dozens of weather probes carrying contraband entered from Belarus overnight.
Authorities have since reopened the sites.#Lithuania #Belarus #Vilnius #BorderSecurity pic.twitter.com/JQxQBN7h4l— Conflicthistory and News (@chc_and_news) October 22, 2025
اس دوران 30 پروازیں منسوخ کر دی گئیں اور تقریباً 4,000 مسافر مختلف ایئرپورٹس پر پھنس کر رہ گئے۔
حکام کے مطابق، متاثرہ پروازوں کو وارسا اور کاؤنَس ایئرپورٹس کی جانب موڑ دیا گیا۔
وزیراعظم کا سخت ردعمل
لتھوینیا کی وزیرِاعظم انگا روجینیے نے ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں واضح طور پر کہا کہ بیلاروس کو ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ ہم بحث نہیں، بلکہ فیصلے کریں گے کہ اس صورتحال سے کیسے نمٹنا ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔
ایسا پہلی بار نہیں ہوا
این سی ایم سی کے مطابق غبارے مختلف مقامات سے چھوڑے گئے، اور اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ ولنیئس ایئرپورٹ کو اس نوعیت کے واقعے پر بند کیا گیا ہو۔ اس سے قبل بھی 5 اکتوبر کو 11 غبارے پکڑے گئے تھے جن میں غیر قانونی سگریٹس کے 18,000 پیکٹس موجود تھے۔
Lithuania’s Vilnius Airport announced that its airspace had reopened after a closure in the early hours of Sunday,
More than 20 balloons used to smuggle counterfeit cigarettes from Belarus to Lithuania disrupted operations at Vilnius airport overnight and affected around 30… pic.twitter.com/U7KgqrmiUf
— FL360aero (@fl360aero) October 5, 2025
واضح رہے کہ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب یورپ کے مختلف ہوائی اڈے ڈرونز اور دیگر مشتبہ سرگرمیوں کے باعث پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں۔
کوپن ہیگن، میونخ اور بالٹک خطے کے ایئرپورٹس حالیہ مہینوں میں متعدد بار بند کیے جا چکے ہیں۔
یورپی یونین کی جانب سے روس پر ہائبرڈ وارفیئر میں ملوث ہونے کا الزام بھی سامنے آ چکا ہے، تاہم ماسکو ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔
