وفاقی وزیرِ خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ںے کہا ہے کہ حالیہ سیلاب اور موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں۔ اگرچہ چاول اور کپاس کی پیداوار متاثر ہوئی ہے، تاہم موجودہ مالی سال میں شرح نمو تقریباً 3.5 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
انہوں نے یہ بیان واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران سی جی ٹی این امریکا کو انٹرویو دیتے ہوئے دیا۔
معاشی درجہ بندی میں بہتری
پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحاتی پروگرام اور مستقبل کے اقتصادی لائحۂ عمل پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان نے معاشی استحکام کے حوالے سے نمایاں پیش رفت کی ہے۔
مالی اور بیرونی کھاتوں میں بہتری آئی ہے، روپے کی قدر مستحکم رہی ہے، زرمبادلہ کے ذخائر اڑھائی ماہ کی درآمدات کے برابر ہو گئے ہیں اور مہنگائی کی شرح سنگل ڈیجٹ میں آ چکی ہے۔ پالیسی ریٹ میں نمایاں کمی کی گئی ہے جبکہ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں فِچ، ایس اینڈ پی اور موڈیز نے تقریباً تین سال بعد پاکستان کی معاشی درجہ بندی میں بہتری ظاہر کی ہے۔
Pakistan’s finance minister @Financegovpk discusses his country’s deepening economic ties with China, emphasizing that the relationship is moving beyond infrastructure to focus on private-sector investment. #Heat #Pakistan #China #CPEC pic.twitter.com/LsJUuq1sgR
— CGTN America (@cgtnamerica) October 21, 2025
انہوں نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے اسٹاف لیول معاہدہ طے پانے کے دوران پاکستانی حکومت کے جاری اصلاحاتی اقدامات پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جن میں ٹیکس نظام، توانائی کے شعبے، سرکاری اداروں کی نجکاری اور مالی نظم و ضبط سے متعلق اصلاحات شامل ہیں۔
نجکاری پروگرام کی بحالی
وزیر خزانہ نے نجکاری پروگرام کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ رواں مالی سال کے دوران پہلی ٹرانزیکشن مکمل ہو چکی ہے جس کے تحت ایک نجی بینک کو متحدہ عرب امارات کی کمپنی نے خرید لیا ہے۔ قومی ایئرلائن کی نجکاری بھی سال کے اختتام سے قبل مکمل ہونے کی توقع ہے۔
سینیٹر اورنگزیب نے کہا کہ بہتر معاشی بنیادوں کے باعث پاکستان دو سال سے زائد وقفے کے بعد دوبارہ بین الاقوامی مالیاتی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ حکومت نے مشرقِ وسطیٰ کے بینکوں سے قرض حاصل کیا ہے اور سال کے اختتام سے قبل پہلا پانڈا بانڈ جاری کرنے کی تیاری مکمل کر رہی ہے۔
🇵🇰 Landmark Privatisation by One of the Largest Global Investors — Sets Momentum in Pakistan’s Reform Agenda
– Historic Milestone: Pakistan achieves its first strategic privatisation in years, marking a strong revival of economic reform and investor trust.
– Acquisition by IHC… pic.twitter.com/VrVMxbaVnB
— Khurram Schehzad (@kschehzad) October 19, 2025
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ستمبر میں 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ کی ادائیگی بھی بروقت کی ہے اور آئندہ اپریل میں 1.3 ارب ڈالر کی ادائیگی کے لیے بھی پُرعزم ہے۔
چین کیساتھ شراکت داری جاری ہے
چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اور مضبوط شراکت داری جاری ہے۔ حالیہ دورۂ بیجنگ کے دوران سی پیک فیز 2.0 کا آغاز کیا گیا ہے جس میں صنعتی تعاون، خصوصی اقتصادی زونز اور نجی شعبے کی شراکت داری پر توجہ دی جا رہی ہے۔ وزیراعظم کے دورے کے دوران 24 مشترکہ سرمایہ کاری معاہدے طے پائے، جن میں کان کنی، زراعت، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور دواسازی کے شعبے شامل ہیں۔
ڈیجیٹل معیشت کا فروغ
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ حکومت ڈیجیٹل معیشت کے فروغ پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ وزیراعظم کی قیادت میں تمام سرکاری ادائیگیاں اور نظام ڈیجیٹلائز کیے جا رہے ہیں جس سے شفافیت میں اضافہ اور محصولات کے دائرے میں وسعت آئی ہے۔ مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا اینالٹکس کے استعمال سے ٹیکس ٹو جی ڈی پی تناسب 8.8 فیصد سے بڑھ کر 10.2 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔
Finance Minister of Pakistan @Financegovpk, Muhammad Aurangzeb discusses the second phase of CPEC, highlighting investment priorities across key sectors. #Heat #Pakistan #China #CPEC pic.twitter.com/Rq3IPfXNWX
— CGTN America (@cgtnamerica) October 21, 2025
تجارتی پالیسی پر بات کرتے ہوئے سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ امریکا کے ساتھ ٹیرف مذاکرات کامیابی سے مکمل ہوئے ہیں، جس سے پاکستانی ٹیکسٹائل خصوصاً ہوم ٹیکسٹائل کے برآمد کنندگان کو نمایاں فائدہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی تجارت کو متنوع بنانے کے لیے وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعلقات بڑھا رہا ہے اور علاقائی تعاون کے فریم ورک کو فروغ دے رہا ہے۔
شنگھائی تعاون تنظیم کے حالیہ اجلاس اور صدر شی جن پنگ کے عالمی حکمرانی کے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان خودمختاری، قانون کی بالادستی اور کثیرالجہتی تعاون کے اصولوں کی مکمل حمایت کرتا ہے، جو پاکستان کی خارجہ و معاشی پالیسی کا بنیادی حصہ ہیں۔
