بھارت میں ایک دہائی سے زائد عرصے سے اقتدار پر ‘قابض’ نریندر مودی کی حکومت نے ملک کے کمزور طبقات کی زندگیاں اجیرن بنا رکھی ہیں۔
سب سے زیادہ متاثر ہونیوالا طبقہ زراعت کے شعبے سے وابستہ کسانوں اور زرعی مزدوروں کا ہے۔ مودی حکومت کی ناکام زرعی پالیسیاں اور نااہلی لاکھوں کسانوں کو خود کشی اور موت کی طرف دھکیل رہی ہے۔
بھارت کے سرکاری ادارے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) کی تازہ رپورٹ کے مطابق مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے سے اب تک ایک لاکھ 11 ہزار سے زائد کسان خود کشی کر چکے ہیں۔
مودی کی ناقص پالیسیاں ہر روز تقریباً 31 بھارتی کسانوں کی جان لے لیتی ہیں۔
صرف سال 2023 میں 10,786 کسانوں اور زرعی مزدوروں نے خودکُشی کی۔ اس تعداد میں 4,690 کسان یا زمیندار اور 6,096 زرعی مزدور شامل ہیں۔
یہ تعداد بھارت میں خودکُشی کرنے والے کل افراد کا قریباً 6.3 فیصد بنتی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ریاست مہاراشٹر سب سے زیادہ متاثر ہوئی، جہاں خودکشی کے 4,151 واقعات پیش آئے۔ یہ بھارت میں رپورٹ ہونیوالے خودکشی کے کل واقعات کا 38 فیصد سے زیادہ حصہ ہے۔
دوسرے نمبر پر کرناٹکا ہے، جہاں خود کشی کے 2,423 واقعات سامنے آئے۔
تیسرے نمبرآندرا پردیش ہے جہاں 925 کسانوں نے خوکشی کی۔
اسی طرح مدھیہ پردیش میں 777، اور تامل ناڈو میں 631 کسانوں نے اپنی جان لی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ کسانوں کی خودکشی کے کل واقعات میں سے 60 فیصد مہاراشٹر اور کرناٹکا سے رپورٹ ہوئے۔
مزید برآں، خودکُشی کرنے والوں میں کسانوں میں سے مردوں کی تعداد 4,553 جبکہ خواتین کی تعداد 137 تھی۔ زرعی مزدوروں میں مرد 5,433 اور خواتین 663 تھیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق فصلوں کی کم پیداوار، کیش کراپس(جیسے کپاس، گنا) پر بڑھتا انحصار اور زرعی اِن پُٹس کی بڑھتی قیمتیں اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔ قرض دہندگان پر انحصار، فصلوں کا نقصان اور مارکیٹ کی غیر یقینی صورتِ حال کسانوں کو انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کر رہی ہے۔
ટેકાના ભાવે મગફળીની ખરીદીની જાહેરાત કરવા ખેડૂતોએ રસ્તા પર ઉતરી પોસ્ટરો દ્વારા વિરોધ પ્રદર્શન કર્યું…#KaliChaudas #Government #Maunds #Groundnuts #Price #Diwali #Gift #Farmers #NewYear #Gujarat #India #News #Jamawat #JamawatUpdate pic.twitter.com/oPY1thAr93
— Jamawat (@Jamawat3) October 19, 2025
تاہم انٹرنیشنل جرنل آف ٹرینڈ ان سائنٹیفک ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے مطابق بھارتی کسانوں کی خودکشی کے واقعات میں 38.7 فیصد ہاتھ قرض کا جبکہ 19.5 فیصد ہاتھ زرعی مسائل کا ہے۔
کسانوں کو دگنی آمدنی کا جھانسہ دیکر چالاک مودی نے لاکھوں انسانوں کو قرض دار بنا رکھا ہے۔ اس فاشست کے نام نہاد ‘شائننگ انڈیا‘ میں فصل بیمہ کے نظام کی ناکامی نے کسانوں کوتباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ۔
نام نہاد ترقی کے نعروں کے پیچھے کسانوں کی خودکشی کا سلسلہ انتہا پسند مودی کی سفاک کابینہ کے منہ پر طمانچہ ہے ۔
