نئی دہلی: بھارتی ریاست اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) رہنما نے پولیس کی موجودگی میں عام شہری کو بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔ اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر معافیاں مانگنے پر مجبور کر دیا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق اتر پردیش کے علاقے میرٹھ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ جب بی جے پی سے تعلق رکھنے والے طالب علم رہنما وکل چپرانہ نے ایک شخص کو پولیس کی موجودگی میں سرعام بدسلوکی کا نشانہ بنایا۔
وکل چپرانہ کی جانب سے شہری سے بدسلوکی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی۔ جس میں بی جے پی رہنما کو گالیاں اور دھمکیاں دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔
بی جے پی رہنما اپنا سیاسی اثرورسوخ ظاہر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہاتھ جوڑ لو، سُومندرا ٹومر میرے بھائی ہیں۔
BJP student leader Vikul Chaprana and close aid of BJP MLA and Cabinet Minister Somendra Tomar seen abusing and forcing a man to kneel and apologise in front of the @meerutpolice following an altercation. That’s the power of being associated with the BJP in power. pic.twitter.com/jZbhlhuRWz
— Mohammed Zubair (@zoo_bear) October 21, 2025
واضح رہے کہ سومندرا ٹومر وزیر توانائی ہیں۔ اور میرٹھ ساؤتھ سے بی جے پی کے ایم ایل اے بھی ہیں۔ جبکہ چپرانہ کو ان کا قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس رویئے سے تنگ 24 خواجہ سراؤں نے اجتماعی طور پر زہر پی لیا، ویڈیو وائرل
دوسری جانب کانگریس رہنماؤں نے بی جے پی کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور چپرانہ کی گرفتاری کا مطالبہ کر دیا۔
