وزیر مملکت داخلہ طلال چودھری (talal chaudary)کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کو جدید ترین گاڑیاں فراہم کی گئی تھیں،ایسی گاڑیا ں وزیر داخلہ اور سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ افسران استعمال کرتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس کیلئے عالمی معیار کی گاڑیاں دی گئی تھیں مگر خیبر پختونخوا حکومت نے گاڑیاں لینے سے انکار کیا،اگر وزیراعلیٰ کو یہ گاڑیاں پسند نہیں تھیں تو اپنی گاڑی دے دیتے۔
خیبر پختونخوا میں نا بالغ شخص کو وزیراعلیٰ کے عہدے پر بٹھایا گیا ہے،خیبر پختونخوا حکومت کے انسداد دہشتگردی کیلئے اقدامات نظر نہیں آ رہے ،دہشتگردی کے خلاف جنگ پورے پاکستان کی جنگ ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کو ایسی گاڑیاں اپنے فنڈز سے دینی چاہیے تھیں،صوبے میں بزدار طرز کا سہیل آفریدی سوچ سمجھ کر لگایا گیا،گاڑیاں واپس کرنے کی ایک وجہ یہ ہے کہ آپ دہشتگردی کے خلاف لڑنا نہیں چاہتے۔
وزیراعلیٰ بدلنے سے دہشتگردی کے خلاف جنگ نہیں رکے گی،وزیراعظم کی ہدایت پر خیبر پختونخوا پولیس کیلئے گاڑیاں دی گئیں،وفاقی حکومت نے مالی مشکلات کے باوجود خیبر پختونخوا پولیس کیلئے جدید گاڑیاں فراہم کیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دہشتگردی کیخلاف کوئی اقدام کرنے سے قاصر ہے،نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی کیخلاف جنگ جاری رہے گی،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں جیت کی طرف بڑھ رہے ہیں،جلد جیت ہوگی۔
خیبر پختونخوا میں پولیس جوان اور افسران کسی آلات کے بغیر لڑ رہے ہیں،سیاسی پوائنٹ اسکورننگ کیلئےجدید ترین گاڑیاں واپس کی گئیں،وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا دہشتگردی کیخلاف غیر سنجیدہ نظرآتے ہیں،وزیراعلیٰ نے ابھی تک صحت،امن وامان کے حوالے سے کوئی ایجنڈا نہیں دیا۔
طلال چودھری کا مزید کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کو 600 ارب روپے کے اضافی فنڈز ملے ،پنجاب کو تو وہ بھی نہیں ملے۔پاکستان وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا جیسی کم عقل قیادت کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
بتایا جائے خیبر پختونخوا صوبہ کیوں محفوظ نہیں؟نالائقی اور نااہلی خیبر پختونخوا کو دیمک کی طرح نقصان پہنچا رہی ہے،ہم چاہتے ہیں خیبر پختونخوا کی حکومت اپنے عوام کا تحفظ کرے۔
اسلام آباد کے اسپتالوں میں 50فیصد مریض خیبر پختونخوا سے آئے ہیں،خیبر پختونخوا میں کوئی اچھا اسپتال تک موجود نہیں ،اسلام آباد کی کالونیوں میں زیادہ تر خیبر پختونخوا کے لوگ آباد ہیں۔خیبر پختونخوا کے لوگ اپنے صوبے میں خود کو محفوظ نہیں سمجھتے،خیبر پختونخوا حکومت کے پاس مینڈیٹ ہے وہ کام کرے۔
69گھڑیاں ان کی تجوری سے نکلی ہیں،اتنی گھڑیاں تو توشہ خانہ میں بھی نہیں جتنی انکے قبضے سے برآمد ہوئیں ،100اکاؤنٹس میں کروڑوں روپے کی ٹرانزیکشن ہوئی ہیں جن کو پبلک کرنے جارہے ہیں،اس ٹرانزیکشن میں کروڑوں روپے کا منافع اسی بینکنگ سسٹم سے لیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ افسوس کہ مذہبی جماعت نے غزہ کے نام پر فساد پھیلایا،پاکستان اس طرز کی فسادی سرگرمیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا،ٹی ایل پی کے لوگ انتہا پسند سوچ کے ساتھ پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہے،نواز شریف کے دور حکومت میں ملک سے دہشتگردی کا خاتمہ کیا گیا۔
ایک طرف افغانستان حملہ آور تھا تو دوسری طرف ٹی ایل پی کے لوگ فساد کر رہے تھے۔مذہبی جماعت کا مسئلہ ہی کچھ اور ہے جو آج تک سمجھ نہیں آیا۔
پنجا ب حکومت نے ٹی ایل پی کو کالعدم کرنے کے حوالے سے حقائق پہ مبنی سفارش بھیجی ،ٹی ایل پی کو کالعدم کرنے کے حوالےسے وفاقی حکومت جلد فیصلہ کرے گی،تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا جائےگا۔
اس وقت حکومت کے پیچھے تمام ریاستی ادارے ڈٹ کے کھڑے ہیں،غزہ کے نام پر مارچ کرنے والوں کا ایک مطالبہ بھی فلسطین اور غزہ پر نہیں تھاکہتے تھے اسرائیلی پراڈکٹس پر پابندی لگا دی جائے۔
جماعت کے قائدین نے کفن باندھا تھا مگر آج تک لاپتہ ہیں،لوگوں کے بچوں کو شہید کرکے چلے گئے نہ کفن مل رہا ہے نہ کفن باندھنے والا مل رہا ہے،پاکستان ایسی منفی سیاست اور فسادی سرگرمیوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
مزید پڑھیں:نئےوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بیرون ملک سفرنہیں کرسکتے
غیر منتخب افراد کو کابینہ میں شامل کرنے پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو مزاحمت کی دھمکی
