سابق فاسٹ بولر محمد عامر نے محمد رضوان کو ہٹا کر شاہین شاہ آفریدی کو ون ڈے ٹیم کا نیا کپتان مقرر کرنے کے فیصلے پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
عامر نے اپنے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو پیغام میں کہا کہ محمد رضوان کے ساتھ ٹھیک نہیں ہوا۔ وہ ایک اچھے ون ڈے کپتان تھے۔ انہوں نے جنوبی افریقہ اور آسٹریلیا جیسے مشکل دوروں میں سیریز جیتیں، جو بڑے بڑے کپتانوں کے لیے بھی مشکل رہا ہے۔
33 سالہ عامر نے قیادت میں بار بار تبدیلیوں کو پاکستانی کرکٹ کی بری حالت کی بڑی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ شاہین آفریدی کی کپتانی جلدی کا فیصلہ ہے۔
ان کا ماننا تھا کہ ہم سب جس میں سابق کرکٹرز اور تجزیہ کاروں کے ساتھ ساتھ شائقین بھی شامل ہیں، اس افراتفری کے ذمہ دار ہیں۔ ہم کرکٹ کو مستحکم نہیں ہونے دیتے۔ ہر 4 مہنے بعد کپتان بدل جاتا ہے، ایک سیریز ہارنے پر کپتان بدل دیا جاتا ہے، جبکہ ایک کپتان کو بننے میں 2 سے 3 سال لگتے ہیں۔
عامر نے شاہین شاہ آفریدی کو براہِ راست کپتان بنانے کے فیصلے پر بھی سوالات اٹھائے، خاص طور پر ان کی فٹنس کو مدنظر رکھتے ہوئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر شاہین کو کپتان بنانا ہی تھا تو پہلے نائب کپتان بنا کر ان کی لیڈرشپ کو جانچنا چاہیے تھا۔ ان کی فٹنس بھی ایک اہم پہلو ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
رضوان کا دور کپتانی
رضوان نے پاکستان کی جانب سے 20 ون ڈے میچز میں قیادت کی، جن میں سے 9 میں کامیابی اور 11 میں شکست ہوئی، جیت کی شرح 45 فیصد رہی۔
انہیں 27 اکتوبر 2024 کو ون ڈے اور ٹی20 دونوں فارمیٹس کا کپتان مقرر کیا گیا تھا، تاہم رواں سال کے اوائل میں نیوزی لینڈ کے خلاف 4-0 کی شکست کے بعد ان سے ٹی20 قیادت واپس لے لی گئی۔
شاہین کے لیے چیلنج
شاہین شاہ آفریدی کے لیے بطور ون ڈے کپتان پہلا چیلنج جنوبی افریقہ کے خلاف 3 میچوں کی ہوم سیریز ہے، جو 4 نومبر سے فیصل آباد کے اقبال اسٹیڈیم میں شروع ہوگی۔
اس سے قبل، شاہین نے جنوری 2024 میں نیوزی لینڈ کے خلاف 5 میچوں کی ٹی20 سیریز میں کپتانی کی تھی، جہاں پاکستان کو 4-1 سے شکست ہوئی تھی۔
