بھارتی دارالحکومت نئی دہلی کی فضائی آلودگی خطرناک حدوں کو چھو گئی ہے اور دیوالی کے بعد یہ شہر دنیا کا آلودہ ترین شہر بن گیا ہے۔
منگل کو نئی دہلی میں ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 442 ریکارڈ کیا گیا جو دنیا بھر میں بلند ترین ہے۔
سوئس ماحولیاتی ادارے IQAir کے مطابق دیوالی کے موقع پر کی جانے والی آتش بازی نے صورتحال مزید خراب کی، حالانکہ بھارتی سپریم کورٹ نے صرف “گرین کریکرز” کو مخصوص اوقات میں استعمال کی اجازت دی تھی۔
Delhi’s air has once again turned hazardous.
I visited Beijing this New Year, and they burst almost the same amount of firecrackers but air pollution was negligible.
I don’t understand why we have to face this situation every year. Any Expert comment?pic.twitter.com/fKSy1s1Zt6
— 🚨Indian Gems (@IndianGems_) October 21, 2025
نئی دہلی میں پٹاخوں سمیت دیگر آتش باز مواد سے خارج ہونے والے مضر ذرات (PM 2.5) کی مقدار عالمی ادارۂ صحت کی سالانہ تجویز کردہ حد سے 59 گنا زائد ریکارڈ کی گئی، جو پھیپھڑوں اور دل کی بیماریوں کا سبب بن سکتے ہیں۔
بھارتی مرکزی آلودگی کنٹرول بورڈ نے بھی نئی دہلی کی ہوا کو “انتہائی خراب” قرار دیا ہے اور پیشگوئی کی ہے کہ آنے والے دنوں میں بہتری کا امکان نہیں، جبکہ درجہ حرارت میں کمی اور ہوا کی سست رفتار صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔
ادھر پنجاب میں بھی فضا بدترین آلودگی کا شکار ہے، جہاں لاہور کا AQI 234 ریکارڈ ہوا، جو دنیا میں دوسرا بلند ترین ہے۔
صوبائی محکمہ ماحولیات کے مطابق بھارتی پنجاب سے آنے والی آلودہ ہوا پاکستانی علاقوں کو متاثر کر رہی ہے۔
پنجاب حکومت نے آلودگی کے تدارک کے لیے ہنگامی پلان نافذ کر دیا ہے، جس میں فصلوں کی باقیات جلانے اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کارروائی اور شدید متاثرہ علاقوں میں اینٹی اسموگ گن کے استعمال جیسے اقدامات شامل ہیں۔
