برطانوی شاہی خاندان کے شہزادہ اینڈریو نے بالآخر اپنا شاہی خطاب “ڈیوک آف یارک” چھوڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔
65 سالہ شہزادہ اینڈریو پر الزامات ہیں کہ انہوں نے کم عمر لڑکی سے جنسی تعلق قائم کیا، جبکہ وہ جیفری ایپسٹین اور اس کی ساتھی گیسلین میکسویل کے نیٹ ورک کا حصہ تھیں۔
جیفری ایپسٹین، جو کم عمر لڑکیوں کی اسمگلنگ اور جنسی استحصال کے الزام میں امریکی جیل میں خودکشی کر چکا ہے، کے ساتھ شہزادہ اینڈریو کے تعلقات دہائیوں پر محیط رہے۔
Meet Prince Andrew.
He was a long time friend of Epstein.
It was said, “Jeffrey taught Andrew how to relax.”
He is alleged to have had sex with underage girls in 2001.
He settled for an undisclosed sum in February 2022 pic.twitter.com/0rstyeRqXQ
— True Street Media (@truestreetmedia) July 17, 2023
انہیں ایپسٹین کے نجی طیارے “لولیتا ایکسپریس” پر سفر کرتے اور نیویارک، فلوریڈا اور کیریبیئن جزیرے پر دیکھا گیا۔ تازہ دستاویزات میں اینڈریو کا نام ایک بار پھر ایپسٹین کی فلائٹ لسٹ میں شامل پایا گیا ہے۔
برسوں تک جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی ورجینیا جیوفری نے اپنی بعد از مرگ شائع ہونے والی یادداشتوں میں اینڈریو پر ان کے ساتھ کم عمری میں جنسی تعلق بنانے کا الزام لگایا تھا۔
انہوں نے 2021 میں شہزادہ اینڈریو پر سول مقدمہ دائر کیا تھا، جسے بعد میں مالی تصفیے کے ذریعے ختم کیا گیا۔ جیوفری نے اپنی حال ہی میں شائع ہونیوالی یادداشت، Nobody’s Girl، میں شہزادہ اینڈریو کے ساتھ مبینہ واقعے کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
جیوفری نے شہزادہ اینڈریو کو “اپنا حق سمجھنے والا” اور “جلد باز” قرار دیا۔
جیوفری نے کہا کہ انہیں بدنام زمانہ کردار جیفری ایپسٹین نے اسمگل کر کے اینڈریو تک پہنچایا تھا۔
کتاب میں مزید انکشاف کیا گیا کہ شہزادہ اینڈریو کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد جیوفری کو ایپسٹین نے $15,000 دیے اور گیسلین میکسویل نے اس کی تعریف کی۔
اگرچہ شہزادہ اینڈریو نے ان الزامات کی ہمیشہ تردید کی ہے، لیکن 2022 میں جب انہوں نے اپنے خلاف دائر مقدمہ میں بھاری رقم دے کر جان چھڑائی تو ان کا کردار اور بھی مشکوک ہو گیا۔
شاہی حیثیت سے مکمل علیحدگی
شہزادہ اینڈریو نے شاہی محل سے جاری ایک بیان میں کہا کہ میں نے ہمیشہ خاندان اور وطن کو مقدم رکھا ہے۔ لیکن میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ پانچ سال قبل میرا عوامی زندگی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ درست تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب میں بادشاہ معظم کی مشاورت سے ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے اپنے خطابات، اعزازات اور عہدے ترک کر رہا ہوں۔
🔥🚨BREAKING NEWS: Prince Andrew just got his royal titles removed including Duke due to a ‘discussion with King Charles’ about allegations of new information connecting Prince Andrew to Jeffrey Epstein getting released in the near future.
This is historic. pic.twitter.com/QYsFmTdb3t
— Dom Lucre | Breaker of Narratives (@dom_lucre) October 17, 2025
اب وہ خود کو “ڈیوک آف یارک” یا “نائٹ آف دی گارٹر” نہیں کہلا سکیں گے، اور “ہز رائل ہائینس” (HRH) جیسے شاہی اعزازات بھی معطل کر دیے گئے ہیں۔
اگرچہ قانوناً ڈیوک کا خطاب صرف پارلیمنٹ کے ذریعے ختم کیا جا سکتا ہے، لیکن اینڈریو نے اس کا استعمال ترک کر دیا ہے۔
ان کی سابقہ اہلیہ، سارہ فرگوسن، بھی “ڈچز آف یارک” کا خطاب استعمال نہیں کریں گی۔ تاہم، ان کی بیٹیوں شہزادی بیٹریس اور شہزادی یوجینی کے شاہی خطابات برقرار رہیں گے۔
شہزادہ اینڈریو، جو ملکہ الزبتھ دوم اور شہزادہ فلپ کے تیسرے بچے اور بادشاہ چارلس سوم کے چھوٹے بھائی ہیں، ماضی میں رائل نیوی کے پائلٹ کے طور پر فاک لینڈز جنگ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
وہ اب بھی ونڈسر کے شاہی محل “رائل لاج” میں مقیم ہیں، لیکن ان کا شاہی کردار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔
ان کا “پرنس” کا لقب برقرار رہے گا کیونکہ وہ پیدائشی طور پر ملکہ کے بیٹے ہیں، تاہم عوامی زندگی میں ان کی واپسی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔
