اسلام آباد، وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ مذاکرات خوشگوار ماحول میں ہوئے، ان میں کسی قسم کی تلخی نہیں تھی۔
خواجہ آصف نے ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان دہشتگردی سے متعلق معاملات کو سلجھانا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ دہشتگردوں کو احکامات افغانستان کے اندر سے ملتے ہیں اور وہ عام شہری آبادی میں گھل مل کر رہتے ہیں۔
وزیر دفاع نے واضح کیا کہ پاکستان نے مذاکرات کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے نہیں بلکہ افغان طالبان کے ساتھ کیے ہیں۔
ان کے مطابق قطر اور ترکیے کے حکام نے مذاکراتی عمل کو قابلِ اعتماد بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ بحث و تمحیص اور ترامیم کا عمل بھی انہی دوست ممالک کے ذریعے جاری رہا۔
خواجہ آصف نے بتایا کہ چارپیراگرافس پرمشتمل مختصر معاہدہ طے پایا ہے جس پرمحتاط مگر پُرامید اندازمیں پیش رفت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے پرعملدرآمد کے لیے ایک مشترکہ مکینزم تشکیل دیا گیا ہے اوراس پرعمل درآمد کی نگرانی ترکیے میں ہوگی۔
وفاق 600 ارب روپے خیبر پختونخوا کو دے چکا، گاڑیاں دہشتگردی کی جنگ کیلئے دی تھیں، طلال چوہدری
اگر کسی جانب سے خلاف ورزی ہوئی تو دونوں ممالک کو آگاہ کیا جائے گا، امکان ہے کہ مذاکرات کا اگلا دور 25 سے 27 اکتوبر کے درمیان ترکیے میں جاری رہے گا۔
