کراچی: الیکشن کیمشن آف پاکستان کی جانب سے بلدیاتی اداروں کے سربراہان کی معطلی تعطل کا شکار ہے جس کے سبب کراچی کے بلدیاتی اداروں کے دفتری امور میں افسران کو دشواریوں کا سامنا ہے۔
سندھ حکومت کی جانب سے اب تک بلدیاتی اداروں کے نئے سربراہان کا نوٹی فکیشن جاری نہیں ہوا اورکراچی میٹرپولیٹین کارپوریشن(کے ایم سی) حکام کے مطابق میٹروپولیٹین کمشنر کراچی کی حیثیت سے ڈاکٹر سیف الرحمان نے چارج سنبھالا ہوا ہے۔
ڈاکٹر سیف الرحمان کا کہنا ہے کہ میٹروپولیٹین کمشنر ادارے کا چیف ایگزیکیٹو افسر ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ نے ان کی سربراہی کا نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر کے تمام چھ اضلاع اور ایک ضلع کونسل میں چیئرمینز عہدوں پر موجود ہیں۔
کے ایم سی حکام کے مطابق الیکشن کمیشن کے نوٹی فکیشن کے بعد سے میئر کراچی وسیم اختر نے دفتری امور سے کنارہ کشی اختیار کر رکھی ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے ملک کے تمام بلدیاتی اداروں کے سربراہان کو 25 جولائی تک معطل کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا تھا۔
کراچی میں الیکشن عملے کی تعیناتی بھی شدید بد انتظامی کا شکار ہے۔ سرکاری افسران ایک سے زائد اضلاع سے طلبی پر چکرا کر رہ گئے ہیں اور جس ضلع میں رپورٹ نہ کریں وہاں سے وارنٹ گرفتاری کا پروانہ مل جاتا ہے۔
25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کے دوران ریٹرننگ آفیسرز نے سرکاری اسپتالوں کے ڈاکٹروں، پیرا میڈکل اسٹاف اورپی آئی اے کے 1200 نان آپریشنل افسران کو بھی ڈیوٹی کے لیے طلب کر رکھا ہے۔
