سوشل میڈیا پر شاہانہ زندگی کی نمائش کی وجہ سے بیس سے زائد ٹیکس چور ایف بی آر کے ریڈار پر آ گئے۔
ان افراد نے سوشل میڈیا پر شاہانہ زندگی کی نمائش کی جس کے بعد وہ ایف بی آر fbr کی نظر میں آ گئے، ان افراد کی انکم ٹیکس گوشواروں میں آمدن اور اثاثے نہ ہونے کے برابر ہیں۔
سونے کی قیمت میں دو دن میں بڑی کمی
انٹیلی جنس رپورٹس کی تفصیلات ریجنل ٹیکس دفاتر کو بھیج دی گئیں، ٹیکسوں کی وصولی کے لئے تحقیقات اور کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔
موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لائف اسٹائل مانیٹرنگ سیل نے بیس سے زیادہ ایسے کیسز کا پتا چلایا ہے جو کروڑوں روپے کے اثاثوں، گاڑیوں، کثرت سے بیرون ملک سفر کرنے اور سوشل میڈیا پر پرتعیش طرز زندگی کی نمائش کر رہے ہیں لیکن اپنے جمع کرائے گئے انکم ٹیکس گوشواروں میں نہ ہونے کے برابر آمدنی یا اثاثے ظاہر کرتے ہیں۔
ان بیس کیسز میں جنوبی پنجاب کی ایک شخصیت بھی شامل ہے، اس کی ملکیت میں 19 پرتعیش اور جدید ماڈل کی گاڑیاں ہیں جن کی مجموعی مالیت 62کروڑ 40لاکھ روپے ہے۔اس شخص نے مالی سال 2020 کے اپنے گوشواروں میں صرف ایک گاڑی ظاہر کی جس کی مالیت 10لاکھ روپے بتائی تھی۔
اس نے مالی سال 2021، 2022 اور 2023 میں 30 لاکھ 75 ہزار کی ٹویوٹا یارس گاڑی ظاہر کی لیکن 2024 کے گوشواروں میں گاڑی کی ملکیت کے خانے میں قابل اطلاق نہیں درج کر دیا۔
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ، انڈیکس نے پھر ایک لاکھ ، 65 ہزار کی حد عبور کر لی
ایک ڈیجیٹل مواد بنانے والا ٹریول ولاگر بھی ان بیس کیسز میں شامل ہے،اس نے کئی ممالک کے دورے کئے لیکن جب ایف بی آر نے اس کے ریٹرنز کی جانچ کی تو معلوم ہوا کہ اس نے صرف 4,90,800 روپے آمدنی ظاہر کی، اس نے 3,90,000 روپے اخراجات کی مد میں اور 10 لاکھ 90ہزار روپے اثاثے ظاہر کیے۔
