غزہ، حماس نے کہا ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کے بعد جنگ دوبارہ شروع نہیں ہوگی۔
ترجمان حماس کے مطابق معاہدے کی تمام شقوں پرعمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے ہرممکن کوشش کی جا رہی ہے تاکہ مکمل اوردیرپا جنگ بندی برقراررہے، ہمیں یقین دہانیاں کرائی گئی ہیں کہ قیدیوں کے تبادلے کے بعد کوئی فوجی کارروائی نہیں ہوگی۔
حماس نے اس بات پراطمینان ظاہرکیا کہ امریکی صدرٹرمپ نے اس معاملے پربراہِ راست اور واضح مؤقف اختیارکیا ہے، حماس امریکی انتظامیہ اورٹرمپ کی ان کوششوں کی قدرکرتی ہے جن کے نتیجے میں یہ تاریخی معاہدہ ممکن ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہم انکے مشکور ہیں کہ انہوں نے امن کے قیام اورانسانی بنیادوں پرقیدیوں کی رہائی میں اہم کردارادا کیا، امید ہے امریکی صدرمعاہدے کی تمام شقوں پرمکمل نفاذ کیلئے اسرائیل پر دباؤ برقراررکھیں گے۔
تاہم حماس نے الزام لگایا کہ اسرائیل رہائی کے لیے فراہم کردہ 250 فلسطینی قیدیوں کی فہرست پراعتراض کر رہا ہے اور چالاکی سے اس میں رد و بدل کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
غزہ امن منصوبے سے ٹرمپ کو نوبیل انعام کے حصول میں مدد نہیں ملے گی
ترجمان نے واضح کیا کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں حماس اپنے ردِعمل کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
