ایک قطر ایئر ویز کی ایک پرواز کے دوران دیا گیا کھانا کھاتے کھاتے وفات پا گئے۔ وہ امریکہ سے سری لنکا جانے والی پرواز میں سفر کر رہے تھے۔
انٹرنیشنل میڈیا رپورٹس کے مطابق مسافر کا نام آسوکا جایاویرا تھا۔ ان کی عمر 85 سال تھی اور وہ پیشہ کے اعتبار سے کارڈیالوجسٹ تھے۔
جایاویرا سبزی خور تھَے اور انہوں نے نے اپنی ٹکٹ بک کرتے وقت ویجیٹیرین کھانے کی درخواست کی تھی، مگر پرواز کے دوران جو کھانا دیا گیا اس میں گوشت بھی شامل تھا۔
جدہ میں سیرین ایئرلائن کی پروازیں معطل، 1800 سے زائد پاکستانی مسافر پھنس گئے
مسافر کی جانب سے شکایت کرنے پر ائیرلائن کے عملے نے انہیں مشورہ دیا کہ وہ گوشت کو سائیڈ پر کر کہ کھانے کا باقی حصہ کھا سکتے ہیں۔
مسافر نے خوراک میں سے گوشت الگ کر کہ کھانے کی کوشش کی لیکن فوراً ہی ان کا سانس پھول گیا۔ عملے نے فوری طبی امداد دی، آکسیجن فراہم کی گئی اور دوائیں بھی دیں، مگر وہ بحال نہ ہو سکے۔
ائیر لائن کے مطابق کیبن عملے نے MedAire نامی سروس سے رابطہ کیا، جس نے ہوائی جہاز کے عملے کو رہنمائی فراہم کی، مگر طیارہ وقت پر ہنگامی لینڈنگ نہیں کر سکا۔
جب جہاز اسکاٹ لینڈ کے ایڈنبرا پہنچا تو مسافر بے ہوش ہو چکا تھا۔ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکے۔
‘والد کی موت ائیرلائن کی غفلت سے ہوئی’
جایاویرا کے بیٹے نے قطر ایئر ویز کو ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے، جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ایئرلائن کی غفلت کی وجہ سے ان کے والد کی موت ہوئی۔
پی آئی اے کی برطانیہ کیلئے پروازیں رواں ماہ سے بحال
انہوں نے مقدمے میں مطالبہ کیا ہے کہ ایئرلائن کو بین الاقوامی قوانین کے تحت ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔
