سری لنکا کی کرکٹ تاریخ کے کامیاب ترین کپتان ارجنا راناٹنگا نے 1996ء کے ورلڈ کپ سے چند ماہ قبل آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی سیریز میں اپنی پوری ٹیم کو آسٹریلوی کھلاڑیوں، خاص طور پراسپنر شین وارن سے ہاتھ ملانے سے منع کردیا تھا۔
یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب دونوں ٹیموں کے درمیان تعلقات پہلے ہی کشیدہ تھے اورتنازعات عروج پر پہنچ گئے تھے۔
20 جنوری 1996ء کو سڈنی کرکٹ گراؤنڈ پرسہ ملکی ٹورنامنٹ کا فائنل کھیلا گیا، جس میں آسٹریلیا نے ڈک ورتھ لیوس سسٹم کے تحت 9 رنزسے کامیابی حاصل کی۔
اصل تنازع اُس وقت پیدا ہوا جب شین وارن نے میڈیا میں رانا ٹنگا کے موٹاپے پرتنقید کرتے ہوئے انہیں غیرفٹ قرار دیا جبکہ میچ کے دوران آسٹریلوی وکٹ کیپراین ہیلی نے سری لنکن کپتان کو “موٹا” کہہ کرمزید ماحول کوخراب کردیا۔
اسی دوران راناٹنگا نے متبادل رنرکی درخواست کی لیکن آسٹریلوی کھلاڑیوں نے یہ کہہ کرمخالفت کی کہ سری لنکن کپتان سست ہیں اوران کے لیے تیز رنر میدان میں نہیں آسکتا۔
شین وارن کی جانب سے راناٹنگا کو آؤٹ کرنے کے بعد نازیبا الفاظ نے جلتی پرتیل کا کام کیا، نتیجتاً میچ کے اختتام پر سری لنکن کھلاڑیوں نے آسٹریلوی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکارکردیا۔
آسٹریلوی میڈیا نے اس اقدام کو “بے ادبی” اور “کھیل کی روح کی خلاف ورزی” قراردیا تاہم راناٹنگا نے دوٹوک مؤقف اختیارکرتے ہوئے کہا کہ سری لنکا اپنی توہین کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔
میچ میں تمام پروٹوکولز پر عمل ہوگا، مگر مصافحے یا گلے ملنے کی ضمانت نہیں، بی سی سی آئی
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب سری لنکا کرکٹ میں ایک نئی طاقت کے طورپرابھررہا تھا اورچند ماہ بعد ہی ورلڈ کپ 1996ء کے فائنل میں آسٹریلیا کوشکست دیکردنیا کواپنی صلاحیتوں کا قائل کردیا۔
