سیڑھیاں چڑھنا دراصل ایک ہائی انٹینسٹی کی ورزش کی طرح کام کرتا ہے، جو دل کی دھڑکن کو تیز کر دیتا ہے اور سانس کی رفتار کو فوری طور پر بڑھا دیتا ہے، اس دوران جسم کو زیادہ آکسیجن کی ضرورت پڑتی ہے، جس کی وجہ سے سانس پھولنا ایک قدرتی ردعمل کے طور پر ظاہر ہوتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سیڑھیاں چڑھتے وقت سانس پھولنا ہمیشہ معمولی تھکن کی علامت نہیں ہوتا، بلکہ بعض اوقات یہ جسم کی جانب سے مختلف صحت کے مسائل، جیسے ہائپر ٹینشن، کمزور دل، یا پھیپھڑوں کی کمزوری کی طرف بھی اشارہ کر سکتا ہے۔
6 تحقیق شدہ جڑی بوٹیوں کی چائے، بلڈ پریشر اور دل کی صحت کیلئے مفید
موٹاپا اور وزن:
وزن زیادہ ہونے کی صورت میں دل اور پھیپھڑوں پر اضافی بوجھ پڑتا ہے، جس کی وجہ سے چند قدم چلنے یا سیڑھیاں چڑھنے پر بھی سانس پھول سکتا ہے۔
پھیپھڑوں کی کارکردگی:
تحقیق کے مطابق سیڑھیاں چڑھنے سے پھیپھڑوں کی کارکردگی بڑھتی ہے، جس سے جسمانی سرگرمی کے دوران سانس لینے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے۔
دل کی بیماریوں کے خطرات:
اگر سیڑھیاں چڑھتے وقت سانس پھولنا، سینے میں درد یا دباؤ محسوس ہو تو یہ دل کی بیماریوں کی علامات ہو سکتی ہیں، ماہرین کے مطابق ایسی علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
ماہرین ان تمام مسائل سے بچنے کے لئے روزانہ ہلکی ورزشیں اور وزن متوازن رکھنے کی ہدایت کرتے ہیں، صحت مند غذائی عادات اپنائی جائیں۔ اگر سیڑھیاں چڑھتے یا ورزش کے دوران سانس پھولنے کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہو یا چکر آئیں تو فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ورزش کے دوران قدم قدم بڑھانا چاہیے اور جسم کو مناسب آرام دینا چاہیے تاکہ صحت مند طریقے سے ورزش کا مکمل فائدہ حاصل ہو۔
