چین کے جنوب مغربی صوبے گویژو میں دنیا کا سب سے بلند پل ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا۔
یہ پل صرف دو منٹ میں ایک گہری وادی کو عبور کروا دیتا ہے جسے پار کرنے کے لیے پہلے دو گھنٹے لگتے تھے۔
ہواجیانگ گرینڈ کینین پل (Huajiang Grand Canyon Bridge) کا افتتاح اتوار کی صبح ہوا۔ یہ تعمیراتی شاہکار سطح زمین سے 625 میٹر (تقریباً 2,050 فٹ) کی بلندی پر بیپان دریا کے اوپر بنایا گیا ہے، جو سان فرانسسکو کے گولڈن گیٹ پل سے نو گنا بلند ہے۔
😍 Okay. Now China is just showing off.
Guizhou Huajiang Canyon Bridge is ALSO the tallest man-made WATERFALL in the world at 625 meters. pic.twitter.com/FitJIV6wkY
— Jason Smith – 上官杰文 (@ShangguanJiewen) September 27, 2025
یہ پل نہ صرف دنیا کا سب سے اونچا پل ہے، بلکہ 1,420 میٹر کے مین اسپین کے ساتھ یہ پہاڑی علاقے میں بنایا گیا دنیا کا سب سے لمبا اسٹیل ٹراس گرڈر سسپنشن پل بھی ہے، جیسا کہ گویژو کے صوبائی حکام نے بتایا۔
یہ پل ‘زمین کی دراڑ’ کہلانے والی خطرناک وادی ہواجیانگ گرینڈ کینین پر بنایا گیا ہے، اور اس کی کل لمبائی 2,890 میٹر ہے۔ یہ منصوبہ چین کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی انفراسٹرکچر پالیسی کا حصہ ہے، جو دنیا کی دوسری سب سے بڑی معیشت کی نمائندگی کرتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس سے پہلے کا دنیا کا بلند ترین پل بھی بیپان دریا پر ہی واقع ہے، جو ہواجیانگ پل سے صرف 100 کلومیٹر دور ہے۔ 2016 میں مکمل ہونے والے اُس پل کی بلندی 565.4 میٹر تھی۔

گویژو، جو چین کے کم ترقی یافتہ صوبوں میں شمار ہوتا ہے، وہاں کے پہاڑی علاقوں میں اب تک 30,000 سے زائد پل تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر دنیا کے 100 سب سے اونچے پلوں میں سے تقریباً آدھے صرف گویژو میں موجود ہیں۔
