چین سے تعلق رکھنے والے 16 سالہ نوجوان کی 6 ماہ کی گروتھ تھراپی کے سیشنز سے قد 1.4 سینٹی میٹر بڑھا اور دو ہفتوں میں واپس سکڑ گیا۔
رپورٹ کے مطابق لڑکا اپنے قد میں اضافے کے لیے گروتھ تھراپی کے سیشنز لے رہا تھا، جس میں اس نے تقریباً 16,700 یوآن خرچ کیے، لیکن تھراپی چھوڑنے کے دو ہفتوں بعد ہی وہ اپنے اصل قد پر واپس آ گیا۔
یہ تھراپی، جسے نان-انویسو گروتھ تھراپی کہا جاتا ہے، جس میں کھچاؤ اور مخصوص مشقوں سے قد کو بڑھایا جاتا ہے، لڑکے کے والد ہوانگ نے کہا کہ ان کا بیٹا چھ ماہ میں 165 سینٹی میٹر سے بڑھ کر 166.4 سینٹی میٹر ہو گیا تھا، مگر تھراپی بند ہونے کے بعد وہ اضافی قد دو ہفتوں میں ختم ہو گیا۔
13 سالہ افغانی لڑکا لینڈنگ گیئر میں چھپ کر دہلی پہنچ گیا
ہوانگ نے کہا کہ میں مسلسل چھ ماہ تک ہر ہفتے اپنے بیٹے کو تھراپی کے لیے لے جاتا رہا۔ سیشنز میں زیادہ تر کھچاؤ والی ورزشیں اور مخصوص آلات شامل تھے، کلینک کا دعویٰ تھا کہ یہ طریقہ بچوں کی گھٹنے کی ہڈیوں کو بڑھنے کے لیے متحرک کرتا ہے، مگر اس کا کوئی سائنسی ثبوت موجود نہیں۔
پیئکنگ یونیئن میڈیکل کالج ہسپتال کے چیف فزیشن وو ژو یان نے کہا کہ زبردستی کھچاؤ کر کے قد بڑھانے کا طریقہ سائنسی طور پر ثابت شدہ نہیں ہے۔ اگرچہ کھچاؤ قد میں نصف سینٹی میٹر سے ایک سینٹی میٹر تک عارضی اضافہ کر سکتا ہے، لیکن یہ اثر عارضی ہوتا ہے۔ جسم کے وزن سے ریڑھ کی ہڈی دوبارہ سکڑ جاتی ہے اور شخص عارضی طور پر لمبا محسوس ہوتا ہے۔
ٹریفک لائٹ سے ٹکر، شہری کا سر اندر اٹک گیا
نوجوان کے والد نے دعویٰ کیا کہ جب بھی بیٹا تھراپی کے سیشن چھوڑتا اس کا قد کم ہو جاتا تھا، لیکن کلینک نے کہا کہ یہ معمول کی بات ہے اور سیشنز مکمل ہونے کے بعد اس مسئلے کا سامنا نہیں ہوگا۔
