نیویارک، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80ویں سربراہی اجلاس کا آغاز ہوگیا، جس میں دنیا بھر سے شریک رہنماؤں نے عالمی امور پر توجہ مرکوز کی۔
اجلاس کے افتتاحی سیشن میں سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خطاب کرتے ہوئے دنیا کو درپیش سنگین بحرانوں اور امن کے لیے درکار کوششوں پر زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی بنیاد دنیا میں قیام امن کے لیے رکھی گئی تھی اورآج بھی ہماری اولین ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ دنیا کو جنگ اورتنازعات سے بچایا جائے، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، فریقین کو بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے چاہئیں۔
انتونیو گوتریس نے یوکرین میں جاری تشدد کو تشویشناک قراردیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں جانیں ضائع ہو رہی ہیں اس کے ساتھ ہی انہوں نے غزہ کی صورتحال پرشدید تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے، نسل کشی جاری ہے۔
سیکریٹری جنرل نے عالمی برادری پر زور دیا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے اورانسانی بحران کو ختم کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ امداد روکنا یا کم کرنا ناقابلِ قبول ہے کیونکہ “امداد کو روکنا موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں استثنیٰ کی مسلسل پالیسی کے باعث امن کے ستون گر رہے ہیں۔
ہم ایسی دنیا چاہتے ہیں جہاں سب کے حقوق کا احترام ہو اور جنرل اسمبلی وہ جگہ ہے جہاں بات چیت اور امن کی راہ ہموار کی جاتی ہے۔”
وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ٹرمپ کی ملاقات چند گھنٹے بعد متوقع
انہوں نے رکن ممالک کو یاد دلایا کہ اقوام متحدہ سب کے لیے ہے اور اس کا مقصد انسانیت کی خدمت اور امن قائم رکھنا ہے۔
