چینی شہر کوانژو میں 19 سالہ شاؤ ڈونگ کو گردن مسلسل جھکائے رہنے کی وجہ سے فالج کا سامنا کرنا پڑا۔
چینی میڈیا کے مطابق یونیورسٹی کے تیسرے سال میں زیرِ تعلیم شاؤ ڈونگ زیادہ تر وقت ویڈیو گیم کھیلنے اور سوشل میڈیا میں مصروف رہتے تھے، اور اپنی گرمیوں کی چھٹیوں میں ہوٹل میں برتن دھونے اور میز صاف کرنے کی ملازمت بھی کی، جہاں گھنٹوں سر جھکائے کام کرنا ان کے معمول کا حصہ تھا۔
ڈاکٹر ناکام، گوگل سرچ نے مریض کی زندگی بچالی
رپورٹ کے مطابق شروع میں انہیں گردن، بازوؤں اور ٹانگوں میں سنسناہٹ اور بے حسی محسوس ہوئی، لیکن ایک صبح جب وہ اٹھے تو ان کی ٹانگیں مکمل طور پر مفلوج ہو چکی تھیں اور وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھے، انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔
ڈاکٹروں کے مطابق ان کی ریڑھ کی ہڈی کے قریب ایک بڑا خون کا لوتھڑا دریافت کیا جو ریڑھ کی ہڈی پر دباؤ ڈال رہا تھا، جس سے اچانک فالج کی کیفیت پیدا ہوگئی، خوش قسمتی سے ایمرجنسی آپریشن کے دوران خون کا جماؤ نکال دیا گیا جس سے مستقل معذوری سے بچاؤ ممکن ہوا، شاؤ ڈونگ اس وقت اپنی ٹانگوں پر قابو پا رہے ہیں اور مکمل صحتیابی کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔
گائے کو مکھیوں سے محفوظ رکھنے کا کامیاب تجربہ
ماہرین صحت کے مطابق لمبے وقت تک گردن جھکائے رکھنے سے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے، جس سے رگیں سوجنے لگتی ہیں اور خون کا بہاؤ غیر معمولی ہو جاتا ہے، اس عادت کے نتیجے میں سر درد، چکر، تھکن، گردن اور بازوؤں میں سنسناہٹ جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں، جبکہ سنگین صورت میں دماغی فالج یا جسم کے کسی حصے کے مفلوج ہونے جیسے خطرناک نتائج بھی پیدا کر سکتی ہے۔
