بسکٹ دنیا بھر میں ہر عمر کے افراد کے پسندیدہ اسنیکس میں شمار ہوتے ہیں، چاہے چائے کے ساتھ کھایا جائیں یا الگ سے مزہ لیا جائے، ان کی خوشبو اور کرکرا ساخت ذائقہ ہر کسی کو اپنی طرف کھینچتا ہے، لیکن کیا آپ نے غور کیا کہ تقریباً ہر بِسکٹ کی سطح پر چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں؟
فوڈ ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ سوراخ بے ترتیب نہیں ہوتے بلکہ آٹے میں بھاپ کے اخراج کے لیے خاص طور پر بنائے جاتے ہیں, آٹے میں موجود نمی تندور کی گرمی سے بھاپ میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اس بھاپ کو نکلنے کا راستہ دیتے ہیں جس سے بِسکٹ ہموار اور کرکرا بنتا ہے، لیکن اگر بھاپ باہر نہ نکل سکے تو بِسکٹ پھول کر بے ڈھنگا ہو جاتا ہے۔
سائنس کی نئی دریافت، بال سے تیار ٹوتھ پیسٹ دانتوں کو مضبوط کرتا ہے
بِسکٹ چونکہ پتلے ہوتے ہیں، اس لیے یکساں پکانے کے لیے گرمی کا اندر تک پہنچنا ضروری ہے، اور بیکنگ کے عمل کو متوازن بناتے ہیں، یوں کنارے جلنے یا اندرونی حصہ کچا رہنے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔

کئی برانڈز بسکٹ کی شکل و صورت کو دلکش بنانے کے لئے بھی ان سوراخ کا استعمال کرتے ہیں، جو ان کی پیچان بن جاتی ہے، یوں یہ سوراخ صرف بیکنگ میں مددگار نہیں بلکہ مصنوعات کو منفرد اور پرکشش بھی بناتے ہیں۔
ہائی بلڈ پریشر، وزن میں کمی اور انفیکشن کے علاج میں الائچی کے فوائد
دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر بِسکٹ پر سوراخ نہیں ہوتے, نرم اور کریم والے بِسکٹ میں ان کی ضرورت نہیں پڑتی، جبکہ ڈائجیسٹو، کریکر اور دیگر کرارے بِسکٹ میں یہ لازمی شامل کئے جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ بسکٹ میں سوراخ ڈالنے کی روایت صدیوں پرانی ہے، قدیم دور میں بیکرز آٹے پر کانٹے یا اوزار سے سوراخ ڈالتے تھے تاکہ بِسکٹ یا کریکر زیادہ کرارے اور پتلے رہیں، آج کل بڑی فیکٹریوں میں یہی عمل مشینوں کے ذریعے انتہائی باریک بینی سے کیا جاتا ہے تاکہ ہر بِسکٹ معیاری اور یکساں ہو۔

